وزیراعظم شہبا زشریف کی زیرصدارت توانائی کے شعبے میں اصلاحات سے متعلق اہم اجلاس ہوا جس میں صنعتی وگھریلو صارفین کو ریلیف دینے اور بجلی کو بہتر بنانے کے لیے متعدد فیصلے کئے گئے۔ وزیراعظم نے یہ ہدایت دی کہ بجلی کے صنعتی اور گھریلو صارفین کے لیے زیادہ سے زیادہ سہولیات پیدا کی جائیں جبکہ ترسیلی نظام میں بہتری لا کر لائن لاسز میں نمایاں کمی لائی جائے۔ انہوں نے توانائی کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے پر زور دیا۔ وزیراعظم نے توانائی کی کمی کو دور کرنے کے لیے قابل تجدید توانائی منصوبوں کو فروغ دینے اور بجلی کے نرخوں میں استحکام کے لیے جامع حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے صارفین کو بلوں کی ادائیگی میں آسانی کے لیے ڈیجیٹل سہولیات بڑھانے پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی چوری کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات جاری رکھے جائیں اور صنعتی ترقی کے لیے توانائی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے واضح کہا کہ گھریلو صارفین کو سہولت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ امید ہے کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات عوام اور صنعت کے وسیع تر مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جائیں گی۔ بجلی چوری کی روک تھام یقینی طور پر خوش آئند ہے۔ یہ بات بھی باعث اطمینان ہے کہ ملک میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 32ہزار میگاواٹ ہے اور صلاحیت حالات کے مطابق تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ ملک کو گزشتہ روز تو ایل این جی گیس موصول ہو چکی ہے جس کے بعد بجلی کی لوڈمینجمنٹ کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ حالیہ لوڈشیڈنگ کی بنیادی وجہ سسٹم کی خرابی نہیں بلکہ گیس کی کمی تھی۔ 13اور 14 اپریل کو پانچ، پانچ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کرنا پڑی۔ وفاقی وزیر توانائی اویس احمد لغاری نے کہا ہے کہ 17، 18 اور 19 اپریل کو لوڈ مینجمنٹ نہیں کی گئی بعدازاں 19 اپریل سے 29 اپریل تک لوڈشیڈنگ کو کم کر کے دو سے اڑھائی گھنٹے محدود رکھا گیا۔ ماضی میں نواز شریف کے دور میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہو چکا تھا تاہم چھ سال بعد دوبارہ اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک بڑی وجہ گیس کی فراہمی میں کمی اور عالمی حالات ھے انہوں نے وضاحت کی کہ اگر بجلی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ڈیزل یا فرنس آئل استعمال کیا جاتا تو بجلی کی قیمت بہت زیادہ بڑھ جاتی اور اس کا بوجھ صارفین پر پڑتا۔ اس وقت پن بجلی کی پیداوار بڑھ کر تقریباً 6ہزار میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے۔ بجلی چوری کی روک تھام کے لیے اٹھائے جانیوالے اقدامات خوش آئند ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سلسلے میں تمام ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے بھرپور اقدامات اٹھائے جائیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ سستی توانائی کی فراہمی یقینی بنائے، گھریلو وصنعتی صارفین کو سستی بجلی کی فراہمی ضروری ہے، اس سے گھریلو صارفین کو ریلیف ملے گا جبکہ صنعتوں کے لیے سستی بجلی کی فراہمی سے کاروباری سرگرمیاں بڑھیں گی، صنعتوں کا پہیہ برق رفتاری سے رواں دواں رکھنا بیحد ضروری ہے اس سے ملک میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور معاشی استحکام پیدا ہوتا ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ بجلی کے نرخوں میں کمی کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کی جائے، بجلی چوری کی روک تھام کے جو ثمرات حاصل ہوں انہیں صارفین تک پہچانا چاہیے۔ صنعتی ترقی کیلئے بجلی کی قیمتوں میں کمی کرنا نہایت فائدہ مند ثابت ہو گا جبکہ توانائی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔ صنعتوں کے لیے بجلی سستی کرنے کے ساتھ ساتھ گھریلو صارفین کے لیے سہولت پیدا کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے لہٰذا توانائی کے شعبے میں اصلاحات عوام اور صنعتی شعبہ کے مفاد کو ملحوظ خاطر رکھ کی جائیں۔




