پاکستان کی سفارت کاری کے چرچے اور ڈنکے’ امریکہ اسرائیل ایران جنگ۔ کردار ادا کرنے سے پہلے کردار کی اہمیت کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ موثر کردار ادا کرنے کے لئے مسلسل جدوجہد اور بلند حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ(ارادے جن کے پختہ ہوں نظر جن کی خدا پر ہو۔۔۔طلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے) موجیں تو ویسے بھی ہر کسی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہیں اور اس عمل سے انسان کی صلاحیتوں میں نکھار پیدا ہوتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ اور وہ بھی منفرد تاریخ۔ ہندوستان کی مسلسل سازشوں کا سامنا، سرد جنگ میں اپنے آپ کو طریقے سے سرخرو کرنا، چائنا پاک تعلقات اور امریکہ کا مزاج “میں نہ مانوں اور میں کسی کو کیا جانوں”۔ افغانستان جنگ، پاکستان کی حساس پوزیشن، جہاد اور قتال۔۔اصل حقائق، نائن الیون اور خوفناک دہشتگردی یوں دہشتگردی کے نتیجے میں ناقابل بیان نتائج۔ پاکستان اورمسلمان ممالک کے درمیان کے تعلقات کی نوعیت کی حساسیت۔ ہمارا ایٹمی پروگرام، اسرائیل اور انڈیا کو جلاب، پوری دنیا میں شور شرابا اور کچھ ممالک کامنافقت کا لبادہ اوڑھنا وغیرہ وغیرہ۔ بہرحال موجوں سے بچ جانے والے آنکھیں کھول کر اور سر اٹھا کر باتیں کرتے ہیں اور ایسے ممالک کی باتیں سنی بھی جاتی ہیں اور مانی بھی جاتی ہیں۔ باصلاحیت سفارتکاری اور لاجواب میزبانی۔ سوال کرنے والے کی زبان روکنا نہ صرف مشکل ہوتا ہے بلکہ ناممکن۔ پوچھنے والے پوچھ سکتے ہیں کہ تو پھر ابھی تک کامیاب سفارتکاری کے نتیجے میں جنگ اپنے انجام کو کیوں نہیں پہنچی۔ یقینا میں پاکستان ہوں اور میرا موقف یہ ہے کہ ہم نے دو متحارب قوتوں کو آمنے سامنے ایک میز پر لا کر بٹھا دیا اور دونوں کی برابری کی بنیاد پر خاطر مدارت کی۔ یوں ہم نے بات کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ جب مسئلہ ایک آدھے دن کا ہو تو جھٹ منگنی پٹ ویاہ ہوسکتا ہے اور اگر چالیس پچاس سال کی مخاصمت اور دشمنی ہو اور اس ساری کہانی میں ایک فریق کا ناقابل بیان جانوں کا نقصان ہوا ہو اور دوسرے کو سپر پاور ہونے کا بخار ہو۔ اس کے علاوہ ڈونلڈ ٹرمپ ڈنکے کی چوٹ پر اپنی ہر بات منوا کر اپنی فتح کا اعلان کرنا چاہتا ہو اور ایران بھی دنیا کی واحد سپر پاور کے غبارے سے ہوا نکال کر دنیا والوں کو جرات، ہمت اور حوصلے کا پیغام دینا چاہتا ہو تو ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں تاہم معاملات آگے بڑھیں گے اور ضرور بڑھیں گے مگر دھیرے دھیرے۔ اور امتحان تو امتحان ہوتا ہے دیکھنا یہ ہے کہ امتحان کی تیاری کا لیول کیا ہے اور اس لیول کو مزید بڑھانے کے لئے ہم کیا کررہے ہیں۔ اس پہلو کو دیکھنے کی ضرورت ہے اور یہ ضرورت محض موجودہ حالات وواقعات کی حد تک نہیں ہے۔ ہماری تیاری اور فیوچر پلاننگ ایک اہم موضوع ہے کیونکہ ہم نے اپنے آپ کو آنے والے وقتوں کے لئے تیار کرنا ہے اور اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ صوفی برکت علی لدھیانوی رحمہ اللہ نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ ساری دنیا کے اہم فیصلے پاکستان کی سرزمین پر ہونگے اور حضرت علامہ محمد اقبال رح نے فرمایا تھا (سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا۔۔۔ لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا) امامت کرنے والے نے ہی تو صحیح سمت بتانی ہے اور سمت بتانے والا صاحب بصیرت ہوتا ہے۔ بصارت اور بصیرت کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے۔ ان دونوں متذکرہ بالا صفات کے لئے ضروری ہے کہ ہم آنکھیں کھول کے رکھیں اور دل کی آنکھ کے دھندلا پن کا اللہ کافی اور اللہ شافی علاج کریں۔ علاج علم وہنر سے ہوتا ہے اور علم وہنر ہائر ایجوکیشن کا پروڈکٹ ہے۔ابھی حال ہی میں قائد کے تحت پروفیسر نعیم مسعود کالم نگار روزنامہ جنگ نے فلیٹیز ہوٹل لاہور میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا۔ جس کا عنوان تھا پاکستان میں سفارتکاری اور پالیسی سازی میں ہائر ایجوکیشن کا کردار۔ ڈاکٹر ضیا القیوم سابق وائس چانسلر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد نے موضوع سیمینار پر ایک تفصیلی لیکچر دیا ان کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں نے گفتگو کی۔ موضوع اپنی نوعیت کے حساب سے بڑا ہی بروقت، برموقع اور برمحل تھا۔ ہماری سفارتکاری اور پالیسی سازی کے بارے مختلف اوقات میں مختلف لوگوں کی مختلف رائے رہی۔ کچھ نے تو ان کو سراہا اور خوب سراہا اور کچھ کے نزدیک ہمارے ملک کو سفارت کاری اور ناقص پالیسیاں ہی تو لے ڈوبی ہیں۔ جتنے منہ اتنی باتیں۔ صائب رائے کی بنیاد پر ہی رائج الوقت پالیسی ہائے کے بارے میں فیصلے تبدیل کئے جاتے ہیں یا پھر نئے فیصلے کئے جاتے ہیں۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ خواہ سفارتکاری ہو یا پالیسی سازی ہر دو کے لئے اچھے سپیڈ ورک کی ضرورت ہوتی ہے اور سپیڈ ورک کے لئے مختلف طبقات کے فیڈ بیک کی ضرورت ہوتی ہے۔ متذکرہ بالا موضوع جس میں ہائر ایجوکیشن کی بات کی گئی ہے پر کھل کھلا کر بات کرنا ضروری ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہائر ایجوکیشن کی جامعات میں وسیع پیمانے پر طلبا وطالبات کو ریسرچ کروائی جاتی ہے اور اگر ریسرچ مبنی بر حقائق ہے تو ایسی ریسرچ واقعی سپیڈ ورک کے لئے ضروری ہے۔ آن گراونڈ صورتحال کاجائزہ لینا، حقائق کو یکسو کرنا اور مثبت انداز سے حالات کی پکچر کو ریسرچ کا حصہ بنانا ہی ریسرچ ہے۔ نظام میں پائے جانے والے سقم اور ان کا حل بھی ریسرچ کا موضوع ہوتے ہیں۔ بیوروکریسی اور سرخ فیتہ اور وائس چانسلرز کا شدید ردعمل۔ ویسے تو میڈیا کے خلاف تنگ آمد بجنگ آمد۔ ڈاکٹر قیصر عباس وائس چانسلر سرگودھا یونیورسٹی نے اپنا ایک نیا چینل بنانے کا اعلان کردیا اور رضوان رضی معروف اینکر اور صحافی کا اس اعلان پر خوبصورت تبصرہ۔ وغیرہ وغیرہ۔ سفارتکاری اور پالیسی سازی میں ہائر ایجوکیشن اگر اپنا بھرپور کردار ادا کرے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے بلکہ ہر کسی کی آنکھیں کھل جائیں اور معاملات صحیح سمت میں چلنا شروع ہوجائیں تاہم اس کے لئے کوالٹی ریسرچ کی ضرورت ہے اور ہمارے جملہ ادارے مصلحتوں کا شکار ہیں۔ ان مصلحتوں کو بالائے طاق رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ سفارت کاری اور پالیسی سازی میں ریسرچ سے استفادہ کیا جائے اور کیا جائیگا انشااللہ۔ ہمارے طلبا وطالبات بیرون ممالک میں وسیع پیمانے پر جائیں اور مختلف ممالک کے طلبا وطالبات بھی ہماری جامعات سے استفادہ کریں۔ یہ ہے سوفٹ پاور اور اس کی بدولت سفارت کاری کی ہیئت بدلی جا سکتی ہے، آخرکار یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ دنیا میں عزت، اثرورسوخ اور قیادت صرف نعروں یا جذبات سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ علم، بصیرت، کردار، مضبوط معیشت اور موثر سفارت کاری سے حاصل ہوتی ہے۔ پاکستان اگر اپنے ماضی کے تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے تحقیق، ہائر ایجوکیشن، ٹیکنالوجی اور قومی اتحاد کو اپنی ترجیح بنا لے تو وہ وقت دور نہیں جب وہ صرف خطے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں ایک متوازن، باوقار اور بااثر آواز کے طور پر ابھرے گا۔




