کسی بھی شہر کے ادبی و تقافتی منظر اور پس منظر کا اندازا اس کی ادبی تاریخی روایت سے لگایا جاتا ہے کہ وہاںماضی کی سرگرمیوں کی نوعیت اور اہمیت کیا تھی اور اس دور کے اہلِ قلم نے معاصر ادب کو کس طور پر متاثر کیا تھا۔ فیصل آبادکے حوالے سے دیکھا جائے تو یونین جیک کے نقشے پر تعمیر برطانوی راج کے لیفٹیننٹ گورنر جیمز براڈ و و ڈ لائل سے منسوب اس شہر نے اب تک بے شمار نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ ریل بازار چوک میں موجود ملکہ وکٹوریہ کی یادگار میں قیصری گیٹ کے سامنے تعمیر کی گئی ۔جواس شہر ِبے مثال کے لواحق وسوابق کے مابین حدِفاصل کا کردار سر انجام دیتی نظر آتی ہے ساندل بار کی یہ دھرتی کبھی جھنگ کی تحصیل تھی۔ اپنوں اور سپنوںکے اس شہر کومیںسعودی فرمانروا شاہ فیصل بن عبدالعزیزالسعود کے نام سے منسوب کرتے ہوئے اس کانام فیصل آباد رکھ دیا گیا۔ مگر اس کے ساتھ ملنے والی خطیر گرا نٹ کسی اور شہر پر لگا دی گئی جو سراسر زیادتی تھی۔ مقامی اہل ِقلم اب بھی اس نا انصافی کا برملا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ زمانی تقدم کی عدم دستیابی کے باوجود اس شہر کی ادبی روایت اپنے اثاثے اور ثروت مند ماحصل کے اعتبار سیدبستانی شہرت کے حامل قدیم شہروں سے بھی کسی طور کم اہمیت کی حامل نہیں ہے۔ دستیاب تاریخی حقائق کے مطابق لائل پور میں شعروادب کی شمع دہلی کاٹن ملز کے مالک لالہ سری رام کے بڑے صاحبزادے لالہ مرلی دھر شاد نے میں لائل پور کاٹن ملز کے سالانہ میلے میںعالمی مشاعرے سے روشن کی، بعدازاں اس سلسلے میں جس قدر بھی مشاعرے منعقد ہوئے ان میں سے بعض مشاعروں کی نظامت جمیل رامپوری نے کی۔ یہ سلسلہ چند مشاعروں کے بعد منقطع ہوگیا ،تاہم اس دوران میں لائل پور کے مشاعروں کا شہرہ پوری دنیائے ادب میں ہو چکاتھا۔ قیام پاکستان کے بعد ستر کی دہائی تک مختلف مواقع پر اگرچہ بے شمار ادبی تقاریب و مشاعرے منعقد ہوئے تاہم جس تقر یب کا چرچا بہت شد ومد سے ہوا۔ ایک مشاعرہ کی تقریب تھی ۔اس میںشامل نمایاں شاعروں میںاحسان دانش، کنور مہندر سنگھ بیدی اور حمایت علی شاعر بھی شامل تھے ۔اس زمانے میںبابا عبیر ابو ذری (جو بعدازاں فیصل آباد کی مزاحیہ شاعری کی پہچان قرار پائے)ابھی نوعمر تھے اور اپنی شاعری میں جذبات و محسوسات کا برملا اظہار کیا کرتے تھے۔ مشاعرہ کی صدارت احمد ندیم قاسمی نے کی۔ مشاعرہ میں عبیرابوذری نے سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ایک نظم پڑھی ”سہگل ہون نوں جی کردا اے ساڈا” پر خوب ہنگامہ برپا ہوا۔ مقامی انتظامیہ کو ترقی پسند لب و لہجے کی یہ نظم گوارا نہ ہوئی اور عبیر ابوذری کے ساتھ ساتھ اس کا خمیازہ شہر کے دیگرشاعروں کو بھی بھگتنا پڑا۔ اس واقعے سے دل برداشتہ ہوکرکنور مہندر سنگھ بیدی مشاعرہ چھوڑ کر چلے گئے۔ اسی طرح (عزیز احمد شیخ کالونی ٹیکسٹائل ملز کے بانی جو ادب دوست اور ادب نواز شخصیت تھے اور شہر میںاہل قلم کی کھلے دل سے معاونت اور حوصلہ افزائی کیاکرتے تھے )کے دولت کدے (واقع فیکٹری ایریا ) پر ایک مشاعرہ اکتوبر کو منعقدہوا۔ جس کی صدارت کنور مہندر سنگھ بیدی نے کی اوراسی یادگار اور تاریخی مشاعرے میں انھوں نیاپنا مشہور زمانہ نعتیہ قطعہ بھی پڑھا تھا۔
عشق ہو جائے کسی سے کوئی چارا تو نہیں
صرف مسلم کا محمدۖ پہ اجارا تو نہیں
آپ ہی انۖ کے تصور سے سنور جاتا ہے
ہم نے خود اپنے تصور کو سنوارا تو نہیں
پھرلائل پورکے فیصل آبادسے موسوم ہونے کے بعد بھی ادبی تقریبات اورمشاعروںکی اس ادبی روایت کا سلسلہ سماجی اور ادارہ جاتی سطح پرجاری وساری رہا اوراس سلسلے میں کریسنٹ ٹیکسٹائل ملز ، رفحان میظ پروڈکس ،گولف کلب ،منروا کلب اور چناب کلب کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم موجودہ دور کے ادبی اجتماعات کومقامی شعرائے کرام کی شرکت کے حوالے سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آج کی بڑی تقاریب میں غیر مقامی ادیبوںاور شاعروں کی نمائندگی کو مقدم خیال کیا جاتا ہے۔شہر میں اگرچہ ملکی سطح کے مشاعرے آج بھی محدود پیمانے پرہورہے ہیں تاہم ان میں مقامی شعراوادبا کی نمائندگی کی شرح بہت حد تک کم ہوچکی ہے۔۔۔اس امرِ معترضہ کے باوجود شہر میں اس نوع کی سرگرمیوں کا اہتمام اپنی جگہ بہت اہمیت کا حامل رہاہے۔اسی طرح پنجابی بزمِ اخلاق،پنجابی بزم ِادب لائلپور ،بزمِ چناب رنگ،حلقہ ارباب ذدق، لائل پور، پاکستان رائٹرز گلڈ،پنجابی ادبی محاذ،پنجابی ادبی سنگت ،ادبِ سرائے،بزم شعر وادب، مجلس ارتقائے ِادب،اشاعت مرکز ،کاروانِ ادب، مجلسِ معینِ ادب اور صدف جیسی ادبی تنظیموں نے بھی مقامی ادبی سرگرمیوں کوہمیشہ قابلِ ذکر حد تک بڑھاوادیا ہے۔پاکستان نیشنل سینٹر،ریڈیو پاکستان فیصل آباد اورفیصل آبادآرٹ کونسل نے بھی اپنے قیام کے بعد بہت سے مشاعرے منعقد کروائے۔فیصل آبادآرٹ کونسل کے قیام کے سلسلے میں دیگر اہل قلم کیساتھ ساتھ محمد افسر ساجد کاکردار بہت نمایاں ہے۔ انہوں نے اپنی انتظامی ذمہ داریوں کے باوصف جہاں کہیںبھی ان کی تعیناتی ہوئی مشاعرہ کی روایت کے فروغ کے سلسلے میںبہت کام کیا۔ جس سے مقامی ادبی تنظیموں کو اپنی سرگرمیاں فعال رکھنے کے سلسلے میں مزید مہمیز ملی۔ فیصل آباد کی غیر سرکاری ادبی تنظیموں و انجمنوں میں بالخصوص مثلا مجلس معین ادب ،نعت اکیڈمی،ہم خیال،مجلس معین ادب، بزم صائم انٹرنیشنل ،بزم مرادِ نعت،انجمن فقیرا نِ مصطفی،دیارِنعت، منظوم اور اکائی نے ملکی سطح پر کئی یادگار مشاعرے منعقدکروائے ۔ عہدِ حاضر میں بھی کئی تنظیمیںبیک وقت نعتیہ اور غزلیہ مشاعریادبی کتب کی رونمائیاں،تنقیدی و اعزاز ی نشستیں وغیرہ تسلسل سے منعقد کروا رہی ہیں۔ نیزمختلف جامعات ،کالجزاور تعلیمی بورڈ کی جانب سے بھی کبھی کبھار مشاعروں کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔اٹھ رہی تھیں ہرطرف ہی صدائیں ہال میں،اک پرندہ رقص میں تھا روشنی کے جال میںلائلپور (موجودہ فیصل آباد) صرف ایک صنعتی یا زرعی شہر نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا مرکز ہے جہاں فکر، ادب، سیاست اور ثقافت کی روشن محفلیں سجتی تھیں۔ بیسویں صدی کے وسط خصوصاً 1960کی دہائی میں اس شہر کے کیفے، ہوٹل اور بیٹھکیں علمی و ادبی سرگرمیوں کا گہوارہ بن چکے تھے۔ یہاں نہ صرف نامور ادیب اور شاعر جمع ہوتے بلکہ اساتذہ، دانشور، سیاسی کارکن اور فنونِ لطیفہ سے وابستہ افراد بھی اپنی گفتگو سے فضا کو معنویت بخشتے۔ان محفلوں کا ایک نمایاں حوالہ افضال احسن رندھاوا جیسے ادبی شخصیات کی موجودگی تھی، جو ان نشستوں میں شریک ہو کر فکری تبادلے کو جِلا بخشتے۔ روزانہ کی بنیاد پر چند اساتذہ پروفیسر شہزادہ حسن، پروفیسر ارشاد احمد خان (جو ایڈگر سنو کی شہرہ آفاق تصنیف ”ریڈ اسٹار اور چائنا” کے مترجم بھی تھے)، پروفیسر صدیق جاوید اور شاعر فاروق حسن ایرم ہوٹل،(Irum Hotel)جھنگ بازار کے کونے پر اکٹھے ہوتے۔ یہ محفلیں اتنی دیر تک جاری رہتیں کہ ہوٹل کا عملہ یاد دہانی کرواتا:سر، وقت ختم ہو گیا ہے!مگر یہ لوگ محض جگہ بدلتے، گفتگو نہیں۔ پھر قافلہ بھوانہ بازار کے کیفے ایران پہنچ جاتا، جہاں ایرانی انداز کی چائے اور ماحول میں باتوں کا سلسلہ جاری رہتا۔ یہاں بھی اختتام کا اعلان ویٹر کے جملے سے ہوتا:سر، کیفے بند کرنے کا وقت ہو گیا ہے!اس کے بعد یہ فکری قافلہ پروفیسر مبشر حسن کے گھر جا پہنچتا، جو موسیقی کے شوقین اور کلاسیکی و نیم کلاسیکی کے پتھریلے ریکارڈز (tawas)کے نایاب ذخیرے کے مالک تھے۔ وہاں عمدہ کافی، نفیس موسیقی اور مشہور ہنٹر بیف کے ساتھ محفل اپنے عروج پر ہوتی۔ آخرکار موذن کی اذان انہیں یاد دلاتی کہ اب گھروں کو لوٹنے کا وقت ہے۔تاہم 1960کی دہائی کے اواخر میں ملکی سطح پر بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی اور نظریاتی تقسیم نے ان محفلوں کو بھی متاثر کیا۔ دائیں اور بائیں بازو کے دانشوروں کے درمیان فکری خلیج بڑھنے لگی، اور یوں ان کے بیٹھنے کے مقامات بھی الگ ہو گئے۔دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے افراد نے چنیوٹ بازار کے محفل ہوٹل کو اپنا مرکز بنایا، جسے اقبال فیروز چلاتے تھے وہی اقبال فیروز جو معروف صحافی شورش کشمیری کے معاون رہ چکے تھے۔ اسی بازار میں تھری اسٹار ہوٹل بھی ان حلقوں کے لیے ایک اہم جگہ بن گیا۔دوسری طرف بائیں بازو کے دانشور، سیاسی کارکن، شاعر، ادیب اور حتی کہ خفیہ اداروں کے افراد بھی کچہری بازار کی وکیلاں والی گلی میں جھنڈے کی چائے کی دکان پر جمع ہوتے۔ یہ جگہ ایک زمانے میں اسلحہ بازار کے نام سے بھی جانی جاتی تھی، مگر وقت کے ساتھ یہ علاقہ موبائل فون کی دکانوں سے بھرگیا۔یہ تمام مقامات محض کیفے یا ہوٹل نہیں تھے، بلکہ یہ فکری مکالمے کے مراکز تھے جہاں نظریات جنم لیتے، بحثیں پروان چڑھتیں اور ادب و سیاست کا رخ متعین ہوتا۔ لائلپور کی یہ روایت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ایک شہر کی اصل روح اس کے کارخانوں یا عمارتوں میں نہیں، بلکہ اس کے لوگوں کی سوچ، گفتگو اور تخلیقی اظہار میں ہوتی ہے۔آج جب ہم ماضی کی طرف دیکھتے ہیں تو یہ محفلیں ایک سنہری عہد کی علامت محسوس ہوتی ہیں ایک ایسا وقت جب اختلاف کے باوجود مکالمہ زندہ تھا، اور کیفے صرف چائے پینے کی جگہ نہیں بلکہ فکر کی آماجگاہ ہوا کرتے تھے۔آج جس بات کی سب سے اہم ضرورت ہے وہ یہاں لائل پور ٹی ہائوس کا قیام ہے ہم گذشتہ دنوں لاہور میں منسٹر اطلاعات عظمیٰ بخاری صاحبہ اورسیکرٹری کلچر پنجاب طاہر محمود ہمدانی سے یہ گذرشات کرچکے ہیں۔ جبکہ لائل پور ٹی ہائوس کے سلسلے سابق ڈی سی نورالامین نے ایک کمیٹی بھی بنائی تھی جس نے کئی ماہ کی سفارشات کے بعد کارونیشن لائبریری کے ساتھ اس کا باقاعدہ نقشہ بنوا کر ڈی سی کی منظوری کے بعد اسے جمع بھی کروادیا تھا جس کاپی سی ون بننے کے لیے دے دیا تھا مگر فنڈ کی عدم دستیابی کے باعث آج تک یہ معاملہ سرد خانے میں پڑا ہوا ہے، ہم پنجاب کی ہر دل عزیز چیف منسٹر مریم نواز شریف صاحبہ سے اپیل کریں گے کہ یہ فیصل آباد کے اہل قلم کا بہت پرانا اوردیرینہ مطالبہ ہے اسے فوری طور پر پورا کیا جائے اور شاعروں ادبیوں کی دعائیں لی جائیں۔




