ساہیوال(بیورو ر چیف)پنجاب میں 2026 کے دوران بھی دالیں، چاول اور دیگر روز مرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام کے لیے ایک بڑا معاشی چیلنج بن چکا ہے، جہاں متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کی قوت خرید تیزی سے کم ہورہی ہے۔ صوبے کے بڑے شہروں لاہور، فیصل آباد اور ملتان میں گھی کی فی کلو قیمت 500 سے 650 روپے کو، دال چنا، دال مسور اور دال ماش کی قیمتیں 300 سے 450 روپے کلو تک پہنچ گئیںقیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات میں روپے کی قدر میں کمی، درآمدی لاگت میں اضافہ بجلی اور پٹرول کی مہنگی قیمتیں اور ذخیرہ اندوزی شامل، قیمتوں کو کنٹرول میں لانا ایک بڑا مسئلہ بن گیاکے باعث کسان اپنی پیداوار مہنگے داموں بیچنے پر مجبور ہیں جس کا بوجوہ براہ راست صارفین پر پڑرہا ہے۔ حکومت کی جانب سے وقتی برآمدی ریلیف پیکجز اور پرائس کنٹرول کے پورے کیے جا رہے ہیں لیکن عملی طور پر مارکیٹ میں قیمتوں کو جو میں لانا ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔کی بڑی وجوہات میں روپے کی قدر میں کمی، صامدی لاگت میں اضافہ کی اور پیٹرول کی مکی قیمتیں، اور ذخیرہ اندوزی شامل ہیں جس نے مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا کر دی ہے۔ دیہی علاقوں میں صورتحال کچھ مختلف ضرور ہے مگر وہاں بھی کھالیہ بیج اور زرعی اخراجات بڑھنے ہیں۔ اسی طرح چاول، خاص طور پر پاستی، 350 سے 500 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے جبکہ عام چاول بھی 250 روپے سے کم دستیاب نہیں جس کی وجہ سے عام شہری کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ان قیمتوں میں اضافے شہروں سے ساہیوال میں بھی کی فی کلو قیمت 500 سے 650 روپے تک بھی چکی ہے جبکہ دال چنا، دال مسور اور دال ماش کی قیمتیں 300 سے 450 روپے فی کلو کے درمیان دیکھی جارہی ہیں۔




