مالی سال 2025-26ء جولائی تا مارچ پاکستان کی صنعتی پیداوار میں 6.5 فیصد اضافہ’ مارچ میں صنعتی پیداوار میں 11 فیصد اضافہ ہونا خوش آئند ہے، آٹو سیکٹر کی کارکردگی نمایاں رہی’ پاکستان بیورو آف شماریات کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ (جولائی تا مارچ 2025-26) کے دوران بڑی صنعتوں کی پیداوار (ایل ایس ای) میں گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 6.48 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ صنعتی شعبے میں ہونے والی اس مثبت پیشرفت کی بنیادی وجہ گاڑیوں’ تیار ملبوسات’ خوراک اور پٹرولیم مصنوعات کی پیداوار میں ہونے والا بھرپور اصافہ ہے۔ اس عرصے کے دوران مینوفیکچرنگ کے وسیع تر شعبوں’ بشمول مشروبات’ تمباکو’ ٹیکسٹائل’ کاغذ وبورڈ’ ربر’ غیر دھاتی معدنی مصنوعات اور تیارشدہ دھاتی اشیاء کی کارکردگی میں بھی بہتری دیکھی گئی ہے۔ کمپیوٹر’ الیکٹرونکس’ برقی آلات اور نقل وحمل کے دیگر سازوسامان کی پیداوار میں اضافے نے بھی ملک کے مجموعی صنعتی گراف کو اوپر لے جانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مجموعی طور پر ہونے والی 6.48 فیصد اضافے میں بنیادی حصہ خوراک (1.79)’ تمباکو (0.18)’ ٹیکسٹائل (0.13)’ تیار ملبوسات (1.08)’ پٹرولیم مصنوعات (0.79) اور سیمنٹ (0.50) کا رہا۔ اس کے برعکس جن شعبوں نے ترقی کی رفتار پر منفی اثر ڈالا یا اسے سست کیا ان میں کیمیکلز (0.11)’ ادویات سازی (0.31) اور لوہے واسٹیل کی مصنوعات (0.27) شامل ہیں۔ تاہم برقی آلات (0.30)’ مشینری اور آلات (0.03)’ آٹو موبائلز (1.50)’ دیگر ٹرانسپورٹ کا سامان (0.24) اور فرنیچر (0.26) کے شعبوں نے اپنی کارکردگی سے مجموعی نمو میں اپنا حصہ ڈالا۔ مارچ 2026ء کے دوران بڑی صنعتوں کی پیداوار میں گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 11.09 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم فروری کے مقابلے میں اس میں 5.2 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔ اس ماہانہ اتار چڑھائو کے نتیجے میں مالی سال 2026ء کے پہلے نو ماہ (جولائی تا مارچ) کی مجموعی ترقی 6.48 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ زیرجائزہ مہینے (مارچ 2026ئ) کے دوران گاڑیوں کی صنعت میں گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 61.35 فیصد اور ٹرانسپورٹ کے دیگر سازوسامان میں 38.4 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ خوراک کی پیداوار میں 53.7 فیصد’ تمباکو میں 37.3فیصد’ مشروبات میں 7.8فیصد’ تیار ملبوسات میں 1.8 فیصد اور برقی آلات کی پیداوار میں 26.36 فیصد اضافہ ہوا۔ مزید برآں فرنیچر کی پیداوار میں 90.7 فیصد’ مشینری اور آلات میں 40.6 فیصد’ ربر کی مصنوعات میں 22.6 فیصد جبکہ کوک اور پٹرولیم مصنوعات کی پیداوار میں گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 3.4 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ اسی طرح لوہے اور اسٹیل کی پیداوار میں 11.5 فیصد’ سیمنٹ میں 6.6فیصد’ غیر دھاتی معدنیات میں 7.1 فیصد اور تیارشدہ دھاتی اشیاء کی پیداوار میں 11.6 فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 8 فیصد رکھتی ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ یہ مشکلات آئی ایم ایف کے دبائو پر کی جانے والی اصلاحات کے باعث سامنے آئیں، جن میں درآمدی پابندیاں’ کمزور روپیہ’ بلند شرح سود میں توانائی کی بار بار قلت شامل ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان ٹیکسٹائل کی دنیا میں اپنا ایک مقام رکھتا ہے۔ پاکستان میں اپنے تیار کردہ ایسے شعبہ جات ہیں جن پر پاکستان کی برآمدات کا انحصار ہے، جن میں فٹ بال کی صنعتی کو خصوصی اہمیت حاصل ہے، پاکستان کھیلوں کی دنیا میں تو پیچھے ہے لیکن یہاں کا تیارکردہ فٹ بال پوری دنیا میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ پاکستان میں صنعتی یونٹ کی ترقی کا خواب اسی صورت شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے جب حکومت صنعتی شعبہ جات کی اصلاحات کیلئے بہتر حکمت عملی اختیار کرے اور صنعتی یونٹس کی مشکلات کا بروقت ازالہ کیا جائے۔ حکومت ملک کی ترقی کیلئے آئے روز کئی قسم کے اجلاس منعقد کرتی ہیں لیکن صنعتی یونٹس کے ساتھ بھی ان کی مشکلات کے ازالہ کیلئے کوئی ٹھوس قسم کے اقدامات ہونے چاہیے۔ صنعتی یونٹس کے مالکان سے ملاقاتوں کے شیڈول کو بھی اپنی ذمہ داریوں میں لینا ہو گا تاکہ صنعتی یونٹس کی مشکلات کا ازالہ ممکن ہو سکے۔ پاکستان میں بار بار بجلی کی لوڈشیڈنگ بھی صنعتی پیداوار میں رکاوٹ بننے کا اہم سبب ہے۔ باہر کے ممالک کا بھی زیادہ تر انحصار پاکستان کی مصنوعات میں زیادہ دلچسپی لینا ہے کیونکہ ملک پاکستان میں تیارکردہ صنعتی اشیاء کا معیار دیگر ممالک سے بہتر ہوتا ہے۔ لہٰذا صنعتی یونٹس کی پیداوار کو مزید بڑھانے کیلئے حکومت کو بروقت اقدامات کرنا ہونگے اسی میں ملک کی ترقی ہے۔




