پاکستان ریلویز میں اعلیٰ عہدوں پر تعیناتیاں نہ ہوسکیں

لاہور(بیوروچیف)پاکستان ریلویز میں اعلی عہدوں پر افسران کی تعیناتی کا معاملہ سنگین صورتحال اختیار کر گیا، کئی اہم عہدوں پر افسران کو اضافی چارج دے کر کام لیا جا رہا ہے جبکہ گریڈ 19میں ترقی کے لیے تین برسوں سے ڈی پی سی نہیں ہوئی جس کی وجہ سے گریڈ 18کے افسران اون پے اسکیل پر تعینات کر کے کام چلایا جا رہا ہے۔ذرائع کیمطابق پاکستان ریلویز میں گریڈ 9، گریڈ 20 اور 21کی بعض اہم ترین سیٹیں خالی پڑی ہیں، ان اہم سیٹوں پر افسران کی تعیناتی نہ ہونے سے دفتری امور میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔جنرل مینیجر ریلوے ویلفیئر گریڈ 21کی سیٹ کئی روز سے خالی پڑی ہے، یہ سیٹ محمد حفیظ اللہ کے سی ای او پاکستان ریلوے تعیناتی کے بعد خالی ہوئی جبکہ کسی اور ریلوے آفیسر کو جنرل مینیجر ریلوے ویلفیئر تعینات نہیں کیا گیا۔اسی طرح جنرل مینیجر ریلوے ایم اینڈ ایس کی سیٹ پر کسی ریلوے افسر کو ریگولر چارج نہیں دیا گیا اور سیکرٹری ریلوے بورڈ کو جنرل منیجر ریلوے ایم اینڈ ایس کا اضافی چارج دے کر کام چلایا جا رہا ہے۔ ڈی جی ویجیلنس سیل ریلوے گریڈ 20کی سیٹ بھی خالی پڑی ہے۔ سابق ڈی آئی جی ریلویز پولیس عبدالرب چوہدری کو ڈی جی ویجیلینس سیل کا چارج دیا گیا تھا، ان کے تبادلے کے بعد یہ سیٹ بھی تاحال خالی پڑی ہے۔ گریڈ 20کی پراجیکٹ ڈائریکٹر 230کوچز کی سیٹ بھی خالی پڑی ہے جبکہ ایم ڈی پے اے ای ایم ایس کی سیٹ خالی پڑی ہے۔ یہ تینوں سیٹیں گریڈ 20کی ہیں۔پاکستان ریلویز میں گریڈ 19کی کئی خالی سیٹوں پر گریڈ 18کے افسروں کو اون پے اسکیل پر تعینات کر کے کام چلایا جا رہا ہے۔ گزشتہ 3سال سے گریڈ 19 کیلئے ڈی پی سی نہ ہونے سے ریلوے کے بعض افسر ابھی تک گریڈ 18میں کام کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں