اسلام آباد(بیورو چیف)پاکستان اور سعودیہ نے معاہدہ ابراہیمی کا حصہ بننے کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ممکن نہیں۔ پاکستان کے سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ ٹرمپ کا بیان جنگ بندی کی سفارت کاری کو معاہدہ ابراہیمی کے وسیع تر دائرے کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کی عکاسی کرتا ہے، معاہدہ ابراہیمی اور ایران ڈیل دو الگ الگ معاملات ہیں یہ دونوں امور آپس میں جڑے ہوئے نہیں ہیں اور نہ ہی انہیں ایسا بنایا جا سکتا ہے۔ پاکستان پر اس طرح کے کسی بھی مطالبے کو ماننے کے لیے کوئی دبائو نہیں ہے جبکہ سعودی عرب نے بھی امریکی صدر کی تجویز کو ٹھکرا دیا ہے۔ سعودی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ فلسطین سے متعلق اس کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ قبل ازیں ٹرمپ نے تہران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ ڈیل کو معاہدہ ابراہیمی سے جوڑتے ہوئے سعودی عرب’ پاکستان’ قطر’ ترکیہ’ اردن’ مصر ودیگرممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اس میں شامل ہوں اوراسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائیں ٹرمپ کے بقول ممکن ہے کہ ایک یا دو ممالک کے پاس اس میں شامل نہ ہونے کی کوئی وجہ ہو اور اسے قبول کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ممکنہ معاہدے پر تہران اور واشنگٹن کے درمیان کئی معاملات پر اتفاق رائے ہو چکا ہے تاہم کسی فوری معاہدے کی توقع نہیں کی جانی چاہیے۔فی الحال جوہری امورپر بات چیت نہیں ہورہی جبکہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری نے واضح کیا ہے کہ ہتھیار ڈالنے یا پیچھے ہٹنے کی کوئی گنجائش نہیں ۔




