مہنگائی کے باوجود گزشتہ سال کی نسبت اس سال20فیصد زائد جانورقربان

فیصل آباد(وقائع نگار خصوصی)اللہ کی رضا کے لئے اللہ کی راہ میں عیدالاضحی پر جانور قربان کرنے کے جذبے نے مہنگائی و دیگر عوامل کو شکست دیدی۔ اس سال 2026ء میں گزشتہ سال 2025ء کی نسبت 20فیصد سے زائد جانور قربان کرنے کے اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔افغانستان بارڈر سیل ہونے اور پاکستان سے بیرون ممالک گوشت کی ایکسپورٹ متاثر ہونے کی وجہ سے اس سال قربانی کے جانوروں کی قیمتیں نمایاں طور پر کم رہیں۔چھوٹے جانور (بکرا’ چھترا) مہنگے جبکہ بڑے جانور (اونٹ’ گائے’ بیل وغیرہ)سستے داموں فروخت ہوئے۔مہنگائی کے باوجود مسلمانوںکی بہت بڑی تعداد نے سنت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے خوبصورت سے خوبصورت اور قیمتی سے قیمتی ترین جانور خریدے ان کی خوب دیکھ بھال کی ۔انہیں سجایا’ سنوارا۔قصائیوں کے نخرے برداشت کئے’ مہنگے داموں چارہ وغیرہ خریدااور عیدالاضحی کی نماز پڑھنے کے بعد اپنے اپنے جانور اپنے سامنے ذبح کروائے۔ گوشت کی تقسیم کی ۔فیصل آباد ڈویژن میں قربانی کے جانور ذبح کرنے کا رحجان پہلے سے زیادہ سامنے آیا۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال 2025ء میں ویسٹ ورکرز نے فیصل آباد ڈویژن کے چاروں اضلاع سے 30ہزار 844ٹن الائشیں اٹھائیں۔فیصل آباد سے 19ہزار921ٹن الائشیں اٹھائی گئیں جبکہ اس سال 2026ء کے دوران فیصل آباد ڈویژن کے چاروں اضلاع سے 39ہزار 360ٹن جبکہ فیصل آباد سے 23ہزار126ٹن الائشیں اٹھائی گئیں۔ الائشیں اٹھانے کی تعداد سے جانور اس سال زیادہ ذبح کئے جانے کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ویسٹ ورکرز کے علاوہ بعض لوگوں نے اپنے طور پر بھی الائشیں اٹھائیں جن کی تعداد الگ سے ہے۔دریں ثناء ۔لاہور(بیوروچیف) پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کے مطابق اس سال عیدالاضحی پر مجموعی طور پر 74 لاکھ 70ہزار جانور قربان کیے گئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔گزشتہ سال ملک بھر میں69لاکھ77ہزار 565 جانور قربان کیے گئے تھے، جبکہ رواں سال یہ تعداد بڑھ کر 74 لاکھ 70 ہزار تک پہنچ گئی، جس سے قربانی کے رجحان اور مویشی منڈیوں کی سرگرمیوں میں اضافے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق قربان کیے گئے جانوروں میں 27 لاکھ 50 ہزار گائیں اور بیل، 42 لاکھ بکرے، 5 لاکھ بھیڑیں اور 25 ہزار اونٹ شامل ہیں۔ بکرے قربانی کے لیے سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے جانور رہے جبکہ گائے اور بیل کی قربانی کا تناسب بھی نمایاں رہا۔ایسوسی ایشن کے مطابق رواں سال کھالوں کی قیمتوں میں بھی استحکام دیکھنے میں آیا۔ گائے اور بیل کی کھال کی اوسط قیمت 2200 روپے رہی، جبکہ بکرے کی کھال 600 روپے، بھیڑ کی کھال 100 روپے اور اونٹ کی کھال تقریبا 2000 روپے میں فروخت ہوئی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عیدالاضحی کے دوران جمع ہونے والی کھالوں کی مجموعی مالیت تقریبا 8 ارب 67 کروڑ روپے رہی، جو چمڑے کی صنعت کے لیے ایک اہم معاشی سرگرمی سمجھی جاتی ہے، کھالیں پاکستان کی لیدر انڈسٹری کے لیے بنیادی خام مال کی حیثیت رکھتی ہیں اور ان کی خرید و فروخت سے وابستہ کاروباری سرگرمیاں ہزاروں افراد کے روزگار کا ذریعہ بنتی ہیں۔صنعتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کھالوں کی بہتر دیکھ بھال، بروقت نمک کاری اور موثر ترسیل کو یقینی بنایا جائے تو چمڑے کی صنعت کو مزید فروغ دیا جا سکتا ہے، جس سے ملکی برآمدات میں بھی اضافہ ممکن ہے۔عیدالاضحی کے موقع پر ملک بھر میں قربانی کے جانوروں کی بڑی تعداد اور کھالوں کی اربوں روپے مالیت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مویشی پالنے، چمڑے کی صنعت اور متعلقہ شعبے پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں