FWMCکی طرحPHAمیں بھی کرپشن سکینڈل کی بازگشت

فیصل آباد(وقائع نگار خصوصی)ڈپٹی کمشنر فیصل آباد کی ناک تلے FWMCمیں ہونے والی ایک ارب روپے کی کرپشن کی تحقیقات میں سنسنی خیز انکشافا ت سامنے آنے کے ساتھ ساتھ PHAمیں بھی کرپشن سکینڈل کی بازگشت ہو رہی ہے۔باخبر ذرائع نے بتایا کہ پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی فیصل آباد میں بعض افسران کی طرف سے پارکو ں میں ہونے والی تقریبات کی مد میں حاصل ہونے والی رقوم اور پٹرول کی مد میں بھاری کرپشن کی جا رہی ہے۔گرین بیلٹس اور پودوں کو پانی لگانے کے لئے استعمال ہونے والی گاڑیوں کے پٹرول میں بھاری پیمانے پر خردبرد ہور ہی ہے۔ ہفتے میں ایک دفعہ فیلڈ میں جانے والی گاڑی کے روزانہ کی بنیاد پر فیول چارج کے ووچر بھرے جا رہے ہیں۔پارکوں میں شادی ‘ بیاہ و دیگر تقریبات کے لئے اکٹھی ہونے والی رقم کی بھی بندربانٹ ہورہی ہے۔اس حوالے سے خفیہ طور پر تحقیقات تیزی سے جاری ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف نے سرکاری محکموںمیں کرپشن کی زیرو ٹالرنس پالیسی کا حکم دے رکھا ہے مگر ایف ڈبلیو ایم سی میں ہونے والی ایک ارب روپے کی کرپشن نے سی ایم کی اس پالیسی کی دھجیاں اڑا دی ہیں اور اب پی ایچ اے میں بھی کرپشن کھیل کھیلا جارہا ہے۔ڈپٹی کمشنر فیصل آباد کیپٹن (ر)ندیم ناصر کی شہرت ایک اچھے آفیسر کی ہے مگر ایف ڈبلیو ا یم سی کے کرپشن سکینڈل نے DCکی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ کیونکہ FWMCکا ہیڈ آفس ڈپٹی کمشنر آفس کے پہلو میں واقع ہے۔ اس کے علاوہ ڈپٹی کمشنر فیصل آباد و دیگر افسران گاہے بگاہے یہاں کا چکر بھی لگاتے رہتے ہیں مگر انہیں ایک ارب روپے کی کرپشن کی کانوں کان خبر نہیں ہوئی یا پھر انہوں نے اس کی خبررکھنا گوارا نہیں کی۔ضلعی سربراہ ہونے کے نا طے ڈپٹی کمشنر کے فرائض منصبی میں اس قسم کے معاملات پر نظر رکھنا بھی شامل ہے۔سوشل میڈیا پر اس حوالے سے مختلف پوسٹس زیر گردش ہیں۔یقینا ڈی سی فیصل آباد کو اس کا علم بھی ہے ندیم ناصر کو چاہئے کہ وہ سوشل میڈیا کے ”مراثیوں” کی ”واہ واہ”کو نظر انداز کر کے اپنی آنکھیں کھولیں اور حقائق کا بریک بینی سے جائزہ لیں تاکہ انہیں اپنے ماتحت اداروں میں لگی لوٹ مار سیل کا علم ہو سکے۔ ڈپٹی کمشنر کو چاہئے کہ پی ایچ اے کے معاملات کا بھی خیال کریں اور اس ادارے میں ہونے وا لی کرپشن کا سنجیدگی سے نوٹس لیں۔ اس سے پہلے کہ اینٹی کرپشن یا اور کوئی خفیہ ادارہ اس کرپشن کو پکڑ کر منظر عام پر لے آئے اور ڈپٹی کمشنر کی نیک نامی پر سوالیہ نشان لگ جائے اس لئے انہیں اپنے طور پر پی ایچ اے افسران کی لوٹ مار کی تفصیلی رپورٹ بنا کر وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھجوا دینی چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں