لاہور (بیوروچیف) پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں واٹر فلٹریشن پلانٹس کی موثر نگرانی اور شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے متعدد اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں پنجاب صاف پانی اتھارٹی کے کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور شکایات کے فوری ازالے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔یہ فیصلہ وزیر ہاسنگ بلال یاسین کی زیر صدارت پنجاب صاف پانی اتھارٹی کی کارکردگی کے جائزہ اجلاس میں کیا گیا، جس میں صوبہ بھر میں قائم واٹر فلٹریشن پلانٹس کی موجودہ فعالیت اور کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے چیف ایگزیکٹو آفیسر علی اصغر نے بتایا کہ فلٹریشن پلانٹس کی نگرانی کے لیے 100 موٹر سائیکلوں پر مشتمل خصوصی سکواڈ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جو مختلف علاقوں میں پلانٹس کی فعالیت اور معیار کی مسلسل نگرانی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہیلپ لائن 1336 پر موصول ہونے والی شکایات پر فوری کارروائی کو یقینی بنایا جائے گا جبکہ جیو ٹیگنگ اور تصاویر کے ذریعے مانیٹرنگ کے نظام کو مزید موثر بنایا جا رہا ہے۔اجلاس میں پانی کے معیار کی جانچ کے لیے لیبارٹری ٹیسٹنگ کے نظام کو مزید مضبوط اور موثر بنانے کی بھی ہدایت کی گئی تاکہ شہریوں کو معیاری اور محفوظ پینے کا پانی فراہم کیا جا سکے۔وزیر ہاسنگ بلال یاسین نے ہدایت کی کہ پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں صاف پانی کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو صاف اور محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی حکومت پنجاب کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔اجلاس میں پنجاب صاف پانی اتھارٹی کی آئندہ حکمت عملی، توسیعی منصوبوں اور عوامی سہولت کے لیے متعارف کرائے جانے والے نئے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ جدید مانیٹرنگ اور شکایات کے موثر نظام کے ذریعے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں کی کارکردگی میں مزید بہتری لائی جائے گی۔




