لاہور(بیوروچیف) پنجاب حکومت نے اپریل 2026کے لیے صوبے بھر کے ڈپٹی کمشنرز کی کارکردگی کی درجہ بندی جاری کر دی ہے جس کے مطابق ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ عثمان جاوید 97.95 پوائنٹس حاصل کرکے پنجاب میں بہترین کارکردگی دکھانے والے ضلع کے انتظامی سربراہ قرار پائے ہیں جبکہ ڈپٹی کمشنر عائشہ رضوان کی قیادت میں چنیوٹ نے 96.18 پوائنٹس کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کر لی۔ لودھراں کی تیسری پوزیشن برقرار،سرگودھا چوتھی اور خانیوال پانچویں پوزیشن پر رہا،مظفرگڑھ پہلی سے سولہویں نمبر پر آگیا۔حکام کے مطابق لاہور کی 26ویں پوزیشن ، درجہ بندی پنجاب حکومت کے انتظامی نگرانی کے نظام کا ایک اہم جزو ،مقصد احتساب کو فروغ دینا ہے۔ جنگ کو حاصل رپورٹ کے مطابق لودھراں 96.10 پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا، جبکہ سرگودھا 96.07 پوائنٹس کے ساتھ چوتھی اور خانیوال 95.79 پوائنٹس کے ساتھ پانچویں پوزیشن پر رہا۔ بہاولنگر 95.66 پوائنٹس کے ساتھ چھٹے نمبر پر آیا، جبکہ کوٹ ادو اور گوجرانوالہ نے بالترتیب 95.40 اور 94.84 پوائنٹس کے ساتھ ساتویں اور آٹھویں پوزیشن حاصل کی۔ فیصل آباد 94.54پوائنٹس کے ساتھ نویں اور حافظ آباد 94.52 پوائنٹس کے ساتھ دسویں نمبر پر رہا۔ جھنگ 94.40 پوائنٹس کے ساتھ گیارہویں پوزیشن پر آیا، جبکہ نارووال، وہاڑی، رحیم یار خان اور لیہ نے 94.22 سے 93.94 پوائنٹس کے درمیان اسکور کے ساتھ اگلی پانچ پوزیشنیں حاصل کیں۔ مظفرگڑھ 93.08 پوائنٹس کے ساتھ سولہویں نمبر پر رہا، جبکہ بہاولپور 92.91، ٹوبہ ٹیک سنگھ 92.46، ننکانہ صاحب 91.96، تونسہ 91.46 اور پاکپتن 91.31 پوائنٹس کے ساتھ بالترتیب اگلی پوزیشنوں پر رہے۔ ڈیرہ غازی خان 90.76 پوائنٹس کے ساتھ بائیسویں نمبر پر آیا۔رپورٹ کے مطابق شیخوپورہ 89.39 پوائنٹس کے ساتھ تیئسویں اور گجرات 88.39 پوائنٹس کے ساتھ چوبیسویں نمبر پر رہا۔ راجن پور 85.49 پوائنٹس کے ساتھ پچیسویں جبکہ لاہور 85.25 پوائنٹس کے ساتھ چھبیسویں نمبر پر آیا۔ ساہیوال 85.21 پوائنٹس کے ساتھ لاہور کے فوراً بعد رہا۔ اٹک، قصور اور بھکر نے بالترتیب 83.25، 83.17اور 82.89 پوائنٹس حاصل کرکے 28ویں، 29ویں اور 30ویں پوزیشنیں حاصل کیں۔ منڈی بہائوالدین 82.57 پوائنٹس کے ساتھ اکتیسویں نمبر پر رہا، جبکہ سیالکوٹ 82.08، راولپنڈی 81.93، خوشاب 81.28، جہلم 80.41، چکوال 79.81 اور میانوالی 79.29 پوائنٹس کے ساتھ اگلی درجہ بندی میں شامل رہے۔ اپریل میں سب سے زیادہ اور سب سیکم درجہ بندی والے اضلاع کے درمیان 23 پوائنٹس سے زائد فرق صوبے بھر میں انتظامی کارکردگی کے نمایاں تفاوت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ حکام کے مطابق ان نتائج کا صوبائی سطح پر تفصیلی جائزہ لیا جائے گا تاکہ گورننس کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے، عوامی خدمات کی فراہمی کو موثر بنایا جائے اور تمام اضلاع میں ترقیاتی اہداف کے حصول کی رفتار تیز کی جا سکے۔




