جڑانوالہ(نامہ نگار)جڑانوالہ مقدمہ میں نامزد نوجوان کی مبینہ گرفتاری کے خلاف ورثا و اہل دیہہ کا ٹائروں کو آگ لگا کر جڑانوالہ فیصل آباد روڈ بلاک کرکے 2 گھنٹے تک احتجاج، پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی،روڈ بلاک ہونے سے گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگ گئی، مذاکرات اور نوجوان کی رہائی کے بعد ورثاء نے احتجاج ختم کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق جڑانوالہ چک نمبر 121گ ب کے رہائشیوں نے جڑانوالہ فیصل آباد روڈ پر ٹائروں کو آگ لگا کر 2 گھنٹے تک احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پولیس تھانہ صدر نے مبینہ طور پر سیاسی ایما پر مقدمہ درج کرکے رمیض ولد صدیق کو گرفتار کیا ہے مشتعل مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ مقدمہ مبینہ طور پر ایم این اے بلال بدر چوہدری کے ایما پر درج کیا گیا ہے مشتعل مظاہرین نے 2 گھنٹے تک روڈ بلاک کرکے پولیس تھانہ صدر کے خلاف احتجاج کیا اور شدید نعرے بازی کی روڈ بلاک ہونے سے دونوں اطراف سے گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگ گئی مشتعل مظاہرین کی جانب سے روڈ بلاک اور احتجاج کی اطلاع پر سیاسی سماجی شخصیت چوہدری علی تراب نے موقع پر پہنچ کر مظاہرین سے مذاکرات کئے اور یقین داہانی کروائی کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے گا جس پر مشتعل مظاہرین نے احتجاج ختم کر دیا یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پولیس تھانہ صدر نے پکڑے گئے نوجوان رمیض ولد صدیق کو معززین علاقہ کے حوالہ کیا کہ مقدمہ کی تفتیش کے سلسلہ میں اسے دوبارہ پیش کیا جائے گا،احتجاج کے حوالہ سے پولیس تھانہ صدر کا کہنا ہے کہ ساجد علی کی مدعیت میں رمیض ولد صدیق ساکن 121 گ ب، عثمان اکرم،اکرم ولد یوسف،ساکن 53 گ ب ہمراہ 3 کس نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج رجسٹرڈ ہوا ہے جس میں نامزد رمیض ولد صدیق کو حراست میں لیا گیا تھا،ذرائع کے مطابق چک نمبر 121 گ ب کے رہائشیوں کی جانب سے روڈ بلاک کرکے پولیس کیخلاف احتجاج کے معاملہ پر سی پی او فیصل آباد سہیل اختر سکھیرا نے رپورٹ طلب کر لی ہے تاہم پولیس تھانہ صدر مصروف کارروائی ہے۔




