امریکہ،ایران کے اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر دستخط ،وزیراعظم میاں شہباز شریف کی توثیق

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ اور ایران کے صدور نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کر دیئے،امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس کے وارسائی محل میں صدرمیکرون کی موجودگی میں دستخط کیے، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی تہران میں دستاویزات پر دستخط کیے، وڈیوز اور تصاویر سامنے آگئی ہیں۔ معاہدے پر دستخط پہلے جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ہونا تھے، فریقین کے درمیان اس عمل کو پہلے مکمل کرنے اور جلد عملدرآمد شروع کرنے پر بات چیت جاری تھی۔ ذرائع کے مطابق اس پیشرفت کا مقصد آبنائے ہرمز کو جلد از جلد کھولنا تھا، کیونکہ دونوں فریق اس معاملے پر پہلے ہی متفق تھے، اس عمل میں ایک وجہ وائٹ ہائوس پر معاہدے کے متن کو جاری کرنے کیلئے بڑھتا ہوا سیاسی دبائو بھی ہو سکتا ہے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ایران نے شرط رکھی تھی کہ معاہدے کا متن باضابطہ دستخط سے پہلے جاری نہ کیا جائے، اور یہ بھی کہا کہ یہ فیصلہ وائٹ ہائوس کے دبائو کا نتیجہ نہیں تھا۔دریں ثناء ۔اسلام آباد(بیوروچیف) وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر آج امریکا اور ایران کے درمیان باضابطہ طور پر الیکٹرانک دستخط ہو گئے ہیںوزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس تاریخی مفاہمتی یادداشت پر دونوں ممالک کے معزز صدور نے دستخط کیے ہیں جبکہ بطور ثالث انہوں نے بھی اس کی توثیق کی ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کی واضح علامت ہے کہ دونوں فریقین تنازع کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ امریکا ایران معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے اور ابتدائی قدم کے طور پر ایران نے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دوبارہ کھولنے جبکہ امریکا نے بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت اور سفارتکاری کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی امن کے لیے وابستگی نے ایک ممکنہ تباہ کن تنازع کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے امریکی مذاکراتی ٹیم بشمول جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی کوششوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔وزیراعظم نے ایران کی اعلی قیادت بشمول آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کی بصیرت اور دانشمندی کو سراہتے ہوئے ایرانی مذاکراتی ٹیم کے اراکین محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور اسکندر مومنی کی خدمات کو بھی اہم قرار دیا۔انہوں نے قطر کی قیادت کے ساتھ ساتھ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے کردار کو بھی اس پیش رفت میں انتہائی اہم اور تعمیری قرار دیا۔وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خصوصی طور پر تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششیں اس اہم پیش رفت اور خطے میں امن و استحکام کے لیے نہایت اہم ثابت ہوئیں۔آخر میں وزیراعظم نے کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت پورے خطے میں باہمی تفہیم، احترام اور مشترکہ خوشحالی کی ایک مضبوط بنیاد ثابت ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں