واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈیجیٹل دور میں ذاتی معلومات، بینکنگ ڈیٹا، سوشل میڈیا اکائونٹس اور اہم دستاویزات کا زیادہ تر ریکارڈ آن لائن محفوظ ہوتا ہے۔ ایسے میں کمزور پاسورڈ صارفین کے لیے بڑا سیکیورٹی رسک بن چکے ہیں۔سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق آن لائن اکائونٹس کے ہیک ہونے کی اہم وجوہات میں آسان، مختصر اور بار بار استعمال کیے جانے والے پاس ورڈ شامل ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی صارفین آسانی کے لیے تمام اکائونٹس پر ایک ہی پاس ورڈ استعمال کرتے ہیں، جو انتہائی خطرناک عادت ہے۔ اگر کسی ایک ویب سائٹ یا ایپ کا ڈیٹا لیک ہو جائے تو ہیکرز اسی پاس ورڈ کے ذریعے صارف کے دیگر اکائونٹس تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق موجودہ دور میں پاس ورڈ کریکنگ سافٹ ویئر پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور ہو چکے ہیں۔ یہ سسٹمز بہت کم وقت میں لاکھوں اور اربوں ممکنہ پاس ورڈز آزما سکتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ عام الفاظ، مختصر پاس ورڈز یا ذاتی معلومات پر مبنی پاس ورڈز اب زیادہ محفوظ نہیں رہے۔ پاس ورڈ جتنا لمبا، منفرد اور پیچیدہ ہوگا، اسے توڑنا اتنا ہی مشکل ہوگا۔ڈیجیٹل سیکیورٹی ماہرین صارفین کو مشورہ دیتے ہیں کہ پاس ورڈ کم از کم 13 سے 20 حروف پر مشتمل ہونا چاہیے۔ طویل پاس ورڈ کو کریک کرنے کے لیے زیادہ وقت اور کمپیوٹنگ پاور درکار ہوتی ہے، جس سے اکانٹ محفوظ رہنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ماہرین کے مطابق ایک محفوظ پاس ورڈ میں بڑے اور چھوٹے انگریزی حروف، اعداد اور خصوصی علامات جیسے @، #، !، % وغیرہ شامل ہونے چاہئیں۔پاسورڈ بناتے وقت عام الفاظ، تاریخ پیدائش، نام، موبائل نمبر یا دیگر ذاتی معلومات استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ سادہ پاس ورڈ کو مختلف حروف، نمبروں اور علامات کے ذریعے زیادہ محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ صارفین کسی پسندیدہ شعر، گانے، محاورے یا جملے کے ابتدائی حروف کو ملا کر منفرد پاس ورڈ بنا سکتے ہیں۔ اس طریقے سے پاس ورڈ مضبوط بھی بنتا ہے اور اسے یاد رکھنا بھی نسبتاً آسان ہوتا ہے۔سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق صرف مضبوط پاسورڈ کافی نہیں، بلکہ اکانٹس کے تحفظ کے لیے دو مرحلہ جاتی تصدیق بھی استعمال کرنی چاہیے۔ اس کے ذریعے پاس ورڈ لیک ہونے کی صورت میں بھی اکانٹ تک غیر مجاز رسائی مشکل ہو جاتی ہے۔




