دوہرے قتل کیس میں ویڈیو ثبوت بنیادی شہادت قرار

لاہور( بیورو چیف)لاہور ہائیکورٹ نے فوجداری مقدمے میں قرار دیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی سے حاصل شدہ ویڈیو ریکارڈنگ اگر فرانزک طور پر غیر ترمیم شدہ ثابت ہو جائے تو وہ فوجداری مقدمات میں بنیادی اور قابل اعتماد ثبوت کے طور پر استعمال کی جا سکتی ہے۔عدالت نے دوہرے قتل کے ایک کیس میں اپیل اور نظرثانی درخواست پر مشترکہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ویڈیو ریکارڈنگ اس مقدمے میں خاموش گواہ کے طور پر سامنے آئی اور اس نے استغاثہ کے متعدد دعوئوں کی نفی کی۔عدالت کے مطابق جدید دور میں ڈیجیٹل شواہد فوجداری مقدمات میں انتہائی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ اگر ویڈیو کی فرانزک جانچ سے یہ ثابت ہو جائے کہ اس میں کوئی ترمیم یا رد و بدل نہیں کیا گیا تو اسے سزا کی بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں