جسم میں بلڈ شوگر (خون کی شوگر)کی سطح کو متوازن رکھنا صرف ذیابیطس یا پری ذیابیطس کے مریضوں ہی کے لیے نہیں بلکہ ہر انسان کی مجموعی صحت، ذہنی چستی اور جسمانی توانائی کے لیے ناگزیر ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق، دن بھر شوگر کی سطح مستحکم رہنے سے نہ صرف تھکن کا خاتمہ ہوتا ہے بلکہ بے وقت کی بھوک اور میٹھا کھانے کی شدید خواہش پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔انسانی جسم میں شوگر کے اتار چڑھا پر کئی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں جن میں بنیادی طور پر غذاء کی نوعیت، کھانے کے اوقات، جسمانی سرگرمیاں، ذہنی تناؤ نیند کا دورانیہ اور پانی کا استعمال شامل ہیں۔بلڈ شوگر کو کنٹرول رکھنے کے4اہم ستون ہیں ، متوازن غذا ء اس سلسلے میں سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے۔ کھانے پینے کی عادات میں صرف یہ تبدیلی کہ کیا کھانا ہے اور کس ترتیب سے کھانا ہے، شوگر کے اچانک اضافے کو روک سکتی ہے۔ کھانا کھاتے وقت سب سے پہلے سبزیاں (فائبر)کھائیں، اس کے بعد پروٹین اور چربی (جیسے چکن، مچھلی یا انڈے)اور سب سے آخر میں کاربوہائیڈریٹس (روٹی یا چاول)کھائیں۔ یہ ترتیب شوگر کو تیزی سے خون میں شامل ہونے سے روکتی ہے۔اپنی خوراک میں دالیں، چنے، بادام، اخروٹ اور زیتون کا تیل شامل کریں کیونکہ یہ ہاضمے کے عمل کو سست کر کے شوگر کو مستحکم رکھتے ہیں۔ ایسے کاربوہائیڈریٹس کا انتخاب کریں جو دیر سے ہضم ہوتے ہیں، جیسے جو ، دلیہ، بران رائس اور بغیر نشاستہ والی سبزیاں۔صبح بیدار ہونے کے دو گھنٹے کے اندر ناشتہ لازمی کریں تاکہ دن کا آغاز ایک متوازن شوگر لیول سے ہو۔ہر تین سے چار گھنٹے بعد کچھ ہلکا پھلکا اور صحت بخش کھائیں تاکہ شوگر لیول اچانک نیچے نہ گرے۔ اگر آپ کوئی پھل یا کاربوہائیڈریٹ کھا رہے ہیں تو اس کے ساتھ چند دانے بادام یا پنیر لازمی لیں تاکہ شوگر کی سطح متوازن رہے۔ رات یا دن کے کھانے کے فورا ًبعد کم از کم 10 منٹ کی واک شوگر کے اچانک ابھار کو روکنے میں جادوئی کردار ادا کرتی ہے۔ہفتے میں کم از کم 3 بار ہلکا وزن اٹھانے کی ورزشیں کریں اور مجموعی طور پر ہفتے میں 150 منٹ کی جسمانی سرگرمی کو اپنا معمول بنائیں۔ یہ عادات انسولین کی حساسیت کو بہتر بناتی ہیں۔روزانہ 7 سے 9 گھنٹے کی پرسکون نیند لیں۔ نیند کی کمی انسولین کے نظام کو درہم برہم کر سکتی ہے۔ دن بھر وافر مقدار میں پانی پیئیں تاکہ گردے اضافی شوگر کو خارج کر سکیں۔ اس کے علاوہ گہرے سانس لینے کی مشقیں یا مراقبہ کریں کیونکہ ذہنی تناؤ کے ہارمونز شوگر لیول کو تیزی سے بڑھاتے ہیں۔ اپنے خون کی شوگر کا باقاعدگی سے معائنہ کرتے رہیں تاکہ آپ کو معلوم ہو سکے کہ کون سی غذا ء آپ کے جسم پر کیا اثر ڈال رہی ہے۔ ذیابیطس کے مریض کوئی بھی نیا معمول اپنانے سے پہلے اپنے معالج سے ذاتی مشورہ ضرور لیں۔




