کراچی (بیوروچیف) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے ایم کیو ایم کے مطالبات پر عمل درآمد نہ ہونے پروفاقی حکومت چھوڑنے اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کی دھمکی د یتے ہوئے کہا ہے کہ مطالبات پر عملدرآمد نہ ہوا تو ایم کیو ایم وفاق اور سندھ حکومت کے خلاف بھرپور احتجاجی تحریک شروع کریگی جس کا اعلان پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کرینگے، ماروائے آئین و قانون حکومت چلائی جا رہی ہے، نہیں کہہ ر ہے ہیں سندھ میں کہ گورنر راج لگائیں مگر ریفرنڈم کرائیں، کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کیلئے انتظامی یونٹ بنائیں، وزیر اعظم شہباز شریف کو آخری وارننگ دے رہے ہیں کہ وہ خود مداخلت کریں، کراچی میں 3 سے 4 دن قیام کریں اور معاہدے کی تمام 18 شقوں پر عملدرآمد کروائیں، پی ٹی آئی حکومت کو روانہ کرتے وقت پی ڈی ایم حکومت کے ساتھ معاہدہ ہوا تھا اور پیپلز پارٹی کے ساتھ ہمارا آخری معاہدہ تھا جس میں یہ شرط قطعی شامل نہیں تھی کہ ہم صوبائی حکومت کا حصہ بنیں گے، کراچی میں لوٹ گھسوٹ کا بازار گرم ہے، 2017 میں پٹیشن دائر کی گئی تھی جس پر 2022 میں سابق چیف جسٹس گلزار احمد نے ہماری پٹیشن کو درست قرار دیتے ہوئے فیصلہ دیا تھا کہ آرٹیکل 140 اے کے تحت مقامی حکومتوں کو اختیارات ملنے چاہئیں، بلاول بھٹو نے اس معاہدے کے بعد ہم سے کوئی میٹنگ نہیں کی اور پورے معاہدے پر عمل نہیں ہوا، ہمیں صوبائی وڈیروں، جاگیرداروں، آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو سے شدید شکوہ ہے جنہوں نے بجٹ تقریر کے بعد یہ کہہ دیا کہ آپ کا تعلق وفاق سے ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبے میں بدترین اور کرپٹ ترین حکمرانی کا سلسلہ بدستور جاری۔ ہفتے کو مرکز بہادر آباد سید امین الحق اور سینیٹر خالدہ اطیب کے ہمراہ حق پرست اراکین اسمبلی نے مرکز بہادر آباد پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوٹہ سسٹم کا 40 فیصد حصہ نہیں مل رہا، جعلی ڈومیسائل پر ہمارے کوٹے پر نوکریاں دی گئیں، وفاق کو کہتا ہوں کہ وہ اپنا آئینی کردار ادا کرے، 18 سالوں میں سندھ کے 25 ہزار ارب روپے کہاں خرچ ہوئے؟ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت محض ایک شاہراہ کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں، کراچی پاکستان کا واحد معاشی انجن اور سب سے بڑا شہر ہے مگر یہاں کے فور منصوبے کی قیمت 25 ارب سے بڑھا کر 300 ارب روپے کر دی گئی، کراچی اور حیدرآباد یونیورسٹی کے لیے فنڈز دینے کے وعدے پورے نہیں کیے گئے۔




