در ودیوار… بولتی تاریخ

پنڈت جواہر لال نہرو اور لارڈ ماونٹ بیٹن کا ایکا اور ریاست پاکستان کے لئے اثاثہ جات کی منتقلی کا مسئلہ۔ اس کے علاوہ بھی بے شمار مسائل اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی بصیرت، معاملہ فہمی، دور اندیشی اور عزم واستقلال۔ کام کی زیادتی اور ان کی صحت کی بگڑتی صورت حال۔ انتہائی پیچیدہ صورتحال لیکن ایک پریشانی پر پریشان ہوجانا دوسری پریشانی کو جنم دینے کے مترادف ہے۔ حوصلے اور ہمت سے نامساعد حالات میں بھی آگے بڑھنے کی راہیں نکالی جا سکتی ہیں اور سوچ بچار کرنے سے مسائل کو بھی وسائل میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ یہ امر خوش آئند تھا کہ سول سروس کی شکل میں ہمارے پاس قوت افرادی موجود تھی جس کی اہلیت قابل اعتماد تھی اور کچھ ادارے بھی موجود تھے۔ کسی بھی ملک کی تعمیر وترقی میں اداروں کا کردار ہوتا ہے اور اداروں کی کارکردگی میں افراد کا کردار ہوتا ہے اور پھر قیادت کا تو ایک اہم کردار ہے۔ابتدائی طور پر ہماری قیادت قائداعظم کے ہاتھ میں لیکن افسوس وہ 11ستمبر 1948کو دنیائے فانی سے کوچ کرگئے اور ان کے جانشینوں نے معاملات کو آگے بڑھایا اور یوں کہانی آگے چلتی ہے اس کے بعد ارتقا کا عمل اور اس عمل میں تسلسل اور تسلسل میں باقاعدگی اور ترتیب۔ افسانوی رنگ کا امکان کم ہوتا ہے اور افسانوی باتیں محض خیالات کی دنیا ہوتی ہیں جبکہ حقیقت ہی اصل میں اک چیز ہے جس کی بنیاد پر تجزیہ کیا جا سکتا ہے، آئندہ کے لئے حکمت عملی ترتیب دی جا سکتی ہے اور اہداف مقرر کرکے آگے بڑھنے کے عمل کو رواں کیا جا سکتا ہے۔ دشمنوں کی سازشیں، ان گنت مسائل اور مہاجرین کی آبادکاری کا پیچیدہ مسئلہ اور پھر ساٹھ کی دہائی میں ہمارے ہاں سبز انقلاب، صنعتی ترقی کا زبردست دور اور مختلف اداروں کا انفراسٹرکچر اور یوں 1965 کی جنگ اور میڈم نورجہاں کے دلوں کو گرما دینے والے ترانے۔گذشتہ دنوں محترم سجاد پرویز کنٹرولر نیوز پنجاب ریڈیو پاکستان لاہور اور امجد کلیار پی آر او بورڈ آف ریونیو پنجاب کے توسط سے ریڈیو پاکستان لاہور کی عمارت دیکھنے کا موقعہ ملا۔ تاریخ کے اوراق خود بخود پلٹ گئے اور ہماری آنکھوں کے سامنے متذکرہ بالا ساری کہانی۔ 1809 میں ایک پیانو بنا اور وہ آج بھی ریڈیو سٹیشن لاہور کی عمارت میں اصلی حالت میں محفوظ ہے۔ مجھے موسیقی کے آلات استعمال کرنے کا ہمیشہ سے ہی شوق رہا ہے۔ میں ستار، باجا، طبلہ، سرنگی اور پیانو بجا کر خود بھی محظوظ ہونا چاہتا تھا اور دوسروں کو بھی موسیقی سے لطف اندوز کرنا چاہتا تھا لیکن یہ ایک مکمل فن ہے جس کے لئے بڑی ریاضت کرنا پڑتی ہے اور اس ریاضت کے لئے وقت تو دینا ہی پڑتا ہے باقی بھی کئی چیزیں قربان کرنا پڑتی ہیں اور ہم تو ٹھہرے افسر جن کے پاس اللہ کا دیا ہوا سب کچھ ہوتا ہے بجز وقت کے۔ کاش ہم سب ٹائم مینیجمنٹ سیکھ جاتے تو بہت سی چیزیں اور بھی کی جا سکتی تھیں خصوصا راگ اور رنگ کا شوق پورا کیا جا سکتا تھا لیکن اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ اب تو ان موسیقی کے آلات پر بیٹھ کر یا ان کے ساتھ کھڑے ہو کر تصویر بنا کر شوق پورا کیا جا سکتا ہے۔ ویسے بھی تو سوشل میڈیا کے آنے کے بعد ہم بہت سے شوق پورے کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور اس کوشش میں یا تو بات کے بتنگڑ بن رہے ہیں یا پھر ہم اپنی چالیں بھول کر مسخرے اور بھانڈ لگ رہے ہیں۔ دونوں صورتوں میں افراتفری اور توتکار۔ اللہ ہی خیر کرے۔ خیر بات تو ریڈیو پاکستان لاہور کی عمارت کی ہورہی تھی وہاں وہ میگا فون بھی دیکھنے کو ملا جس پر میڈم نور جہاں گانے اور ترانے گایا کرتی تھیں۔ خوبصورت موسیقی اور موسیقی کے سب رنگ آنکھوں کے سامنے اور کانوں میں سرسنگیت نے رس گھول دیئے۔ واقعی میڈم نورجہاں جیسے فنکاروں نے ہمارے ملک میں فنون لطیفہ کی تعمیروترقی میں اساسی کردار ادا کیا تھا بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سارا کردار ان جیسی ہستیوں کا ہی تھا اور اس لحاظ سے آج کے فنکار کے لئے دعوت فکر ہے۔ عمارت مذکور کی گیلری اور وہاں نصب کی گئی تصاویر میں ایک مکمل تاریخ۔ کہتے ہیں تاریخ لکھنے میں ڈنڈی ماری جاتی ہے حالانکہ لکھی گئی تاریخ تو قابل اعتماد نہیں ہوتی لیکن کسی بھی ملک کے درودیوار پر لکھی تاریخ کبھی بھی غلط نہیں ہوتی ہاں دیکھنے کے لئے آنکھ چاہیئے اور آنکھ پر چڑھے مختلف طرح کے ککرے ہٹانا شرط اول ہے۔ چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔ کس نے کیا کیا، کس کا کیا رویہ تھا، کس کے ہاں کیا پیش نظر تھا،کس کا کیا طریقہ واردات تھا اور کس کی کیا نیت تھی اور یہ بات ہمیشہ پیش نظر رکھنا ہو گی کہ نیت بر مراد اور جو خیرات دیتا ہے مراد پاتا ہے۔ کچھ لینے کے لئے یقینا کچھ دینا پڑتا ہے۔ ساری کہانی لینے دینے کی ہے اور اگر کچھ بی نہ کیا جائے تو لینے کے دینے پڑجاتے ہیں۔ سجاد پرویز اور ان کے ساتھ امجد اقبال دونوں حضرات کا تاریخ کا وسیع مطالعہ اور ان کا انداز بیان۔ میں نے لڑکپن میں بہت ریڈیو سنا اور اس کے بعد ایک نئے دور کا آغاز ہوگیا اور پھر چینلز اور چینلز پر پروگرام ریڈیو صرف دوران سفر اور وہ بھی اپنی مختصر رینج کی وجہ سے شہروں تک محدود۔ اصل بات یہ ہے کہ میں ریڈیو سنتا ضرور رہا ہوں لیکن میں نے ریڈیو کے بارے میں جاننے کی کوشش کبھی نہیں کی تھی اس روز مجھے بتایا گیا کہ ہندوستان میں ریڈیو 1937 میں آیا اور جب پاکستان معرض وجود میں آیا تھا تو ہمارے حصے میں تین ریڈیو سٹیشن لاہور، پشاور اور ڈھاکہ آئے۔ متذکرہ بالا ریڈیو سٹیشن لاہور کی موجودہ عمارت 1964میں معرض وجود میں آئی ۔ زبردست بلڈنگ اور وہاں ہر قسم کی ضروری سہولت۔ روایت سے جدت تک کا سفر یقینا مشکل، پرتھکن اور اجنبی سا ہوتا ہے اور اکثر اوقات مسافر راستے میں ہی الجھ جاتا ہے اور سفر ادھورا رہ جاتا ہے۔ یہ ایک قابل غور معاملہ ہے اور اس پر گہرے سوچ بچار کی ضرورت ہے۔ بدلتے حالات ریڈیو کا استعمال اور خصوصا اس استعمال میں جدت کی چٹنی کا استعمال۔ صاحبان عقل ودانش و فکر اور پالیسی سازوں کو سر جوڑ کر بیٹھنے کی ضرورت ہے۔ تاہم یہ امر بڑا ہی خوش آئند ہے کہ محترمہ مریم نواز شریف وزیراعلیٰ پنجاب کی پالیسی بابت میڈیا مینجمنٹ کے تحت ایک پوڈ کاسٹ سٹوڈیو قائم کیا گیا ہے جس کا باقاعدہ افتتاح مریم اورنگ زیب سینئر وزیر پنجاب گورنمنٹ نے کردیا ہے۔ جدت کا سفر اور اس کے تسلسل کو یقینی بنانا بلاشبہ ریاست اور عوام کا کام ہے تاہم میڈیا نے اس بابت شعور کو بیدار کرنا ہے۔ آئیے اس حقیقت کو عوام پر آشکار کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں