واشنگٹن/تہران(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا نے آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد ایران کے خلاف ایک بار پھر بڑے پیمانے پر فضائی کارروائیاں شروع کر دی ہیں، جبکہ ایرانی تیل کی فروخت پر دی گئی عارضی رعایت بھی واپس لے لی ہے۔ ان اقدامات سے دونوں ممالک کے درمیان قائم نازک جنگ بندی ایک بار پھر خطرے میں پڑ گئی ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق گزشتہ روز ایران میں 80سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد ایران کو بھاری قیمت چکانے پر مجبور کرنا اور اس کی سمندری حملوں کی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا۔امریکی فوج کے مطابق حملوں میں پاسداران انقلاب کے 60سے زائد چھوٹے جنگی بحری جہاز، فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل، اینٹی شپ کروز میزائل اور ڈرون لانچنگ سائٹس کو نشانہ بنایا گیا۔دوسری جانب ایرانی میڈیا نے جنوبی ایران کے مختلف علاقوں، جن میں خارگ آئل ٹرمینل، جزیرہ قشم، بندر عباس اور سیریک شامل ہیں، میں دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایک تجارتی گھاٹ پر نامعلوم میزائل کے ٹکڑے گرنے سے متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ بعض ماہی گیر کشتیوں میں بھی آگ لگ گئی۔ تاہم فوری طور پر کسی شہری ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔خارگ آئل ٹرمینل، جہاں سے ایران کی تقریباً 90فیصد خام تیل کی برآمدات ہوتی ہیں وہاں بھی دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاعات سامنے آئیں، اگرچہ امریکی فوج نے اپنے بیان میں اس مقام کو براہِ راست نشانہ بنانے کی تصدیق نہیں کی۔ ایران کے مرکزی فوجی کمانڈ ہیڈکوارٹر خاتم الانبیا نے امریکی حملوں کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کی دھمکی دی ہے۔ ایرانی فوجی قیادت کا کہنا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری اور آبنائے ہرمز کے انتظام میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کو ہرگز قبول نہیں کرے گا۔ادھر امریکی حکومت نے ایران کو تیل فروخت کرنے کی عارضی اجازت بھی واپس لے لی ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے جون میں جاری کیا گیا وہ جنرل لائسنس منسوخ کر دیا ہے جس کے تحت ایران کو محدود مدت کے لیے عالمی منڈی میں خام تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات فروخت کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ امریکا نے متعلقہ کمپنیوں کو 17جولائی تک تمام لین دین ختم کرنے کی مہلت دی ہے۔دریں ثنائ۔تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحری اور فضائی افواج نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے بحرین اور کویت میں واقع امریکی فوجی تنصیبات سمیت مجموعی طور پر 85 اہداف کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان کے مطابق حملوں میں بحرین میں قائم امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر اور کویت میں واقع علی السالم ایئر بیس کو بھی ہدف بنایا گیا۔ ایرانی فوجی بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی امریکا کی جانب سے جنگ بندی اور اسلام آباد معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی کے جواب میں کی گئی۔ایران کا موقف ہے کہ امریکا نے اسی روز صوبہ ہرمزگان اور ماہشہر میں ساحلی اور غیر فوجی مقامات پر فضائی حملے کیے تھے، جس کے بعد یہ جوابی کارروائی عمل میں لائی گئی۔




