عزیز تر مجھے رکھتا تھا وہ مجھے رگ جاں سے…

جن لوگوں کے ماں باپ انتقال کر جائیں تو انہیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ والدین کی کمی کا احساس شدت سے محسوس ہوتا ہے، خاص طور پر جب مشکل راہوں’ کٹھن مرحلوں سے انسان نبردآزما ہوتا ہے تو اسے بے ساختہ اپنے والدین یاد آ جاتے ہیں اور اس کے دل ودماغ میں یہ خیال آتا ہے کہ آج اگر میری ماں، میرا باپ زندہ ہوتے تو وہ مجھے کبھی اس حال میں تنہا نہ چھوڑتے، میرا شمار ان خوش نصیبوں میں ہوتا ہے جسے اﷲ تعالیٰ نے بہترین والدین عطاء کئے، میری ماں نے ہماری پرورش میں کسی قسم کی کمی کوتاہی نہیں آنے دی اور میرے باپ نے اپنی ذات سے بڑھ کر ہمارا خیال رکھا، کیا خوب کہا گیا ہے کہ
ان کے سائے میں بخت ہوتے ہیں
باپ گھر میں درخت ہوتے ہیں
اپنے والد گرامی ملک محمد شریف سے ملنے والا پیار ومحبت یاد آئے تو مجھے بے ساختہ درج بالا شعر یاد آ جاتا ہے، میں خاص طور پر اپنے والدین کا لاڈلا اور ان کی آنکھوں کا تارا تھا، مجھ پر جب بھی کوئی کڑا وقت آیا یا میں بیمار ہوا تو میری ماں تڑپ جاتی اور میرا باپ سائے کی طرح میرے ساتھ ساتھ رہتا، آج گیارہ جولائی ہے اور میں ماضی کے اوراق پر نظریں جمائوں تو میرے والد گرامی ملک محمد شریف کو اس دارفانی سے کوچ کئے 20سال ہو گئے جو مجھے کسی قیامت سے کم نہیں لگتے، کہنے کو تو یہ بیس ورھے، بیس سال ہیں مگر جس پر گزری ہو، وہی ان لمحوں کی اذیت جان سکتا ہے، 11جولائی 2006ء کو میرے والد محترم گرامی قدر ملک محمد شریف اذان فجر کے ساتھ ہی اپنے خالق حقیقی سے جاملے، اس وقت میری ماں زندہ تھی اور میرا بڑا بھائی حاجی ملک مشتاق احمد بھی چٹان کی طرح ہمارے ساتھ کھڑا تھا، مگر پھر بھی باپ، باپ ہی ہوتا ہے، میرا باپ میرا مخلص دوست’ غمگسار تھا، اس نے میری پرورش اور تعلیم وتربیت پر اپنا سب کچھ نچھاور کر دیا، وہ باپ جو مجھے دیکھ کر خوش ہوتا تھا اس کا سایہ سر سے اٹھ جانا وہ صدمہ ہے جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا، تاہم موت ایک اٹل حقیقت ہے، اس دنیا میں جو بھی آیا اسے ایک دن اس دارفانی سے کوچ کر جانا ہے، میرے والدین بھی اب ہم میں نہیں رہے مگر ان کی باتیں، ان کی یادیں ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گی، میرے والد محترم گرامی قدر ملک محمد شریف
نے ایک مربوط اور شاندار زندگی گزاری، وہ اپنی چار بہنوں کے اکلوتے بھائی اور اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے، جنہوں نے زندگی میں بڑے نشیب وفراز دیکھے اور جب بھی مشکلات پیش آئیں تو ان کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کیا، ہم چھ بھائی اور دو بہنیں ہیں، ان میں سے پانچ بھائی یکے بعد دیگرے اﷲ رب العزت کی بارگاہ میں پیش ہو گئے، ان میں میرے 4 بھائیوں کو میرے باپ نے اپنے ہاتھوں سے قبروں میں اتارا مگر ان کا صبر واستقلال نہیں ڈگمگایا، انہوں نے بھرپور زندگی گزاری، محنت ومزدوری کی اور اپنی اولاد کو ہر خوشی دی، جو کام بھی کیا، اس میں دیانت کو مقدم رکھا، کبھی کسی کے ساتھ دھوکہ فراڈ نہیں کیا’ میں آج جب بھی قبرستان جاتا ہوں تو میرے باپ اور میری ماں کی قبریں انتہائی پرسکون نظر آتی ہیں، جو اس بات کی گواہی ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں کسی کا سکون نہیں اجاڑا اور کسی بھی جگہ دونمبری نہیں کی بلکہ ہمیشہ سچائی اور حق گوئی سے کام لیا’ اپنی زندگیاں اسلامی تعلیمات کے مطابق بسر کیں، ماں باپ جیسی نعمت کوئی نہیں ہے، باپ خاندان کا ستون، محافظ اور سردار ہے، ایک باپ اپنی پوری زندگی کی کمائی اور توانائیاں بچوں کی بہتر پرورش اور خوشحالی کے لیے صرف کر دیتا ہے، وہ اپنے خاندان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دھوپ چھائوں کی ہر سختی خندہ پیشانی سے جھیلتا ہے، باپ بچوں کے لیے کردار سازی میں قابل تقلید مثال ہوتا ہے اور اس کا سایہ اولاد کے لیے تحفظ کی سب سے بڑی علامت ہے، ان سے محبت واحترام سے پیش آنا اولاد کا اولین فرض ہے، اﷲ تعالیٰ کا کروڑ ہا بار شکر ہے کہ اس نے مجھے والدین کی خدمت کرنے کا شرف بخشا، میرا باپ ملک محمد شریف مجھے دوستوں کی طرح بھی عزیز تھا جس کے ساتھ میں اپنا مسئلہ، دکھ’ درد شیئر کر لیتا تھا اور وہ مجھے حوصلہ دیکر پہلے سے زیادہ مضبوط بنا دیتے تھے، بلاشبہ! انسان کے پاس چاہے دنیا کی ہر آسائش حاصل ہو، لیکن اگر اس کے والدین زندہ نہیں تو وہ ایسے پھرتا ہے جیسے لاوارث ہے، آج جب بھی میں بیمار ہوتا ہوں یا کسی مشکل’ مصیبت کا شکار ہوتا ہوں تو باپ بے ساختہ یاد آ جاتا ہے، آنکھیں بھیگ جاتی ہیں لیکن میں اپنا دکھ درد کسی سے شیئرنہیں کرتا، خاص طور پر اپنی دونوں بہنوں’ اپنی بیوی اور اپنے دونوں بچوں کو پتہ نہیں چلنے دیتا کہ میں کس درد’ کس تکلیف’ کس اذیت میں مبتلا ہوں کیونکہ میں ان سب کا حوصلہ ہوں اور یہ حوصلہ برقرار رکھنا چاہیے، یہ سوچ کر میں ایسے وقت میں خاموش رہتا ہوں، اپنا دکھ درد پی جاتا ہوں اور ان سب کے سامنے شکستہ دل کے ساتھ مسکراتا رہتا ہوں۔ دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ اپنے پیارے حبیب مدنی کریم آقا حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے طفیل میرے والدین مرحومین کی کامل مغفرت’ کامل بخشش فرمائے، آمین۔ بے شک! باپ کی شان وعظمت بہت بلند ہے اور باپ کی محبت کے حوالے سے درج ذیل نظم اپنی مثال آپ ہےعزیز تر مجھے رکھتا تھا وہ رگ جاں سے
یہ بات سچ ہے میرا باپ کم نہ تھا ماں سے
وہ ماں کے کہنے پہ کچھ روک مجھ پہ رکھتا تھا
یہی وجہ تھی کہ مجھے چومتے ججھکتا تھا
وہ آشنا میرے ہر کرب سے رہا ہر دم
جو کھل کے رو نہیں پایا مگر سسکتا تھا
جڑی تھی اسکی ہر اک ہاں فقط میری ہاں سے
یہ بات سچ ہے میرا باپ کم نہ تھا ماں سے
ہر اک درد وہ چپ چاپ خود پہ سہتا تھا
تمام عمر وہ اپنوں سے کٹ کے رہتا تھا
وہ لوٹتا تھا کہیں رات کو دیر سے کہ دن بھر
وجود اسکا پسینے میں ڈھل کے بہتا تھا
گلے پھر بھی تھے مجھے ایسے چاک داماں سے
یہ بات سچ ہے میرا باپ کم نہ تھا ماں سے
پرانا سوٹ پہنتا تھا کم وہ کھاتا تھا
مگر کھلونے میرے سب خرید لاتا تھا
وہ مجھے سوئے ہوئے دیکھتا تھا جی بھر کے
نہ جانے سوچ کے وہ کیا کیا مسکراتا تھا
میرے بغیر تھے سب خواب اسکے ویراں سے
یہ بات سچ ہے میرا باپ کم نہ تھا ماں سے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں