ریاست کی اولین ذمہ داری شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ہے۔ جب شہری بلا خوف و خطر اپنے کاروبار، تعلیم، روزگار اور روزمرہ زندگی کی سرگرمیاں انجام دے سکیں تو یہی کسی بھی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کی کامیابی کا حقیقی پیمانہ ہوتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں پولیس کو محدود وسائل، نفری کی کمی اور تیزی سے بدلتے ہوئے جرائم کے چیلنجز کا سامنا ہے، وہاں جرائم میں نمایاں کمی کسی معمولی کامیابی سے کم نہیں۔اسی تناظر میں فیصل آباد ریجن پولیس کی حالیہ کارکردگی نہ صر ف قابلِ توجہ بلکہ ملک کے دیگر پولیس اداروں کے لیے ایک قابلِ تقلید ماڈل کے طور پر سامنے آئی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن ”محفوظ پنجاب” کے تحت انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب عبدالکریم کی پیشہ ورانہ قیادت اور ریجنل پولیس آفیسر فیصل آباد سہیل اختر سکھیرا کی موثر کمان میں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق سنگین جرائم میں 71فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ کامیابی محض اعدادوشمار تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے جدید، پیشہ ورانہ اور عوام دوست پولیسنگ کا ایک جامع تصور کارفرما ہے۔جرائم میں کمی کسی ایک کارروائی یا مہم کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ یہ موثر قیادت، واضح حکمت عملی، مضبوط نگرانی، جوابدہی اور ادارہ جاتی نظم و ضبط کا ثمر ہوتی ہے۔ ایک کامیاب پولیس سربراہ صرف گرفتاریاں نہیں کرواتا بلکہ ادارے کی سمت متعین کرتا، اہلکاروں کا اعتماد بحال کرتا، احتساب کو یقینی بناتا اور عوام میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد پیدا کرتا ہے۔ فیصل آباد ریجن میں یہی عناصر نمایاں طور پر دکھائی دیتے ہیں۔یہ طرزِ پولیسنگ جدید پولیسنگ کے بانی سر رابرٹ پیل کے اس مشہور اصول کی عملی عکاسی بھی کرتا ہے کہ ”پولیس عوام ہے اور عوام ہی پولیس ہیں”۔ان کے مطابق موثر پولیسنگ طاقت کے استعمال سے زیادہ عوام کے اعتماد، تعاون اور رضاکارانہ شراکت داری پر منحصر ہوتی ہے۔ آج دنیا کی بیشتر جمہوری ریاستیں اسی تصور کو جدید پولیسنگ کی بنیاد سمجھتی ہیں۔ فیصل آباد ریجن پولیس کی نمایاں کامیابیوں میں منظم جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔ سینکڑوں خطرناک ملزمان اور گینگز کی گرفتاری، ہزاروں مقدمات کی یکسوئی اور کروڑوں روپے مالیت کا مسروقہ مال برآمد ہونا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ کارروائی صرف گرفتاریاں کرنے تک محدود نہیں رہی بلکہ جرائم کے منظم نیٹ ورکس کو توڑنے پر توجہ دی گئی۔ اس سے متاثرین کا اعتماد بھی بحال ہوا اور قانون کی عملداری مزید مضبوط ہوئی۔اسی طرح منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی میں بھی فیصل آباد ریجن نے روایتی انداز سے ہٹ کر بیک ٹریک پالیسی اختیار کی، جس کے تحت صرف چھوٹے موٹے فروشوں کے بجائے منشیات کے اصل سپلائرز، مالی معاونین اور پورے نیٹ ورک تک رسائی حاصل کی گئی۔ یہ حکمت عملی دنیا بھر میں تسلیم شدہ انٹیلی جنس لیڈ پولیسنگ (Intelligence-Led Policing) کے اصولوں سے مطابقت رکھتی ہے، جس میں انفرادی مجرموں کے بجائے پورے جرائم پیشہ نیٹ ورک کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔یہی تصور معروف ماہرِ جرمیات ہرمن گولڈسٹین کے پروبلم اورینٹڈ پولیسنگ (Problem-Oriented Policing)نظریے سے بھی ہم آہنگ ہے، جس کے مطابق جرائم کی علامات کے بجائے ان کی بنیادی وجوہات کا خاتمہ زیادہ موثر اور دیرپا نتائج پیدا کرتا ہے۔قتل، اقدامِ قتل اور دیگر سنگین مقدمات میں مطلوب اشتہاری مجرموں کی گرفتاری بھی فیصل آباد ریجن پولیس کی نمایاں کامیابیوں میں شامل ہے۔ ایسے عناصر اکثر جرائم پیشہ گروہوں کی سرپرستی کرتے اور معاشرے میں خوف و ہراس کا سبب بنتے ہیں۔ ان کی گرفتاری نہ صرف قانون کی بالادستی قائم کرتی ہے بلکہ یہ واضح پیغام بھی دیتی ہے کہ قانون سے فرار ممکن نہیں۔جدید پولیسنگ کا ایک اہم ستون کمیونٹی پولیسنگ ہے، اور فیصل آباد ریجن نے اس میدان میں بھی قابلِ ذکر پیش رفت کی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر کھلی کچہریوں کا انعقاد، شکایات کے فوری ازالے، آن لائن شکایتی نظام، خواتین کے تحفظ کے اقدامات، عوامی سہولت مراکز اور شہریوں سے مسلسل رابطے نے پولیس اور عوام کے درمیان فاصلے کم کیے ہیں۔دنیا بھر میں پروسیجرل جسٹس (Procedural Justice) کے نظریے کو جدید پولیسنگ کی بنیاد تصور کیا جاتا ہے، جس کے مطابق جب شہری پولیس کے رویے کو شفاف، منصفانہ اور باوقار محسوس کرتے ہیں تو وہ ازخود قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ اسی طرح بروکن ونڈوز تھیوری (Broken Windows Theory) بھی اس بات پر زور دیتی ہے کہ معمولی جرائم اور بے ضابطگیوں کے خلاف بروقت کارروائی بڑے جرائم کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔فیصل آباد ریجن پولیس کی ایک اور مثبت جہت عوامی اعتماد میں اضافہ ہے۔ اعتماد کسی قانون یا حکم نامے سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ دیانت داری، شفافیت، مستقل کارکردگی اور پیشہ ورانہ رویے سے حاصل کیا جاتا ہے۔ تاجروں، سول سوسائٹی، تعلیمی اداروں اور مختلف سماجی حلقوں کا بڑھتا ہوا تعاون اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط ہو رہا ہے۔ادارہ جاتی اصلاحات صرف جرائم پر قابو پانے تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ پولیس اہلکاروں کی فلاح و بہبود بھی ان کا لازمی حصہ ہوتی ہے۔ شہدا کے اہل خانہ، غازیوں، حاضر سروس اور ریٹائرڈ اہلکاروں کے لیے صحت اور تعلیم کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے مختلف اداروں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر عمل درآمد اسی حقیقت کا اظہار ہے کہ ایک مطمئن اور باوقار پولیس فورس ہی بہتر انداز میں عوام کی خدمت کر سکتی ہے۔یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ یہ تمام کامیابیاں ایسے حالات میں حاصل کی گئیں جب پولیس کو نفری کی کمی، محدود مالی وسائل، شہری آبادی میں اضافے، ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال اور جرائم کے بدلتے ہوئے رجحانات جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان حالات میں موثر نتائج اس بات کا ثبوت ہیں کہ بہتر انتظامی حکمت عملی اور وسائل کے دانشمندانہ استعمال سے نمایاں تبدیلی ممکن ہے۔تاہم پولیسنگ ایک مسلسل عمل ہے، کوئی آخری منزل نہیں۔ جرائم پیشہ عناصر بھی وقت کے ساتھ اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے رہتے ہیں، اس لیے پولیس کو جدید فرانزک سہولیات، مصنوعی ذہانت، پیش گوئی پر مبنی تجزیاتی نظام، ڈیٹا اینالیٹکس اور تحقیق پر مبنی پولیسنگ کو مزید فروغ دینا ہوگا۔ دنیا بھر میں ایویڈنس بیسڈ پولیسنگ (Evidence-Based Policing) کو مستقبل کی پولیسنگ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں فیصلے مفروضوں کے بجائے تحقیق، شواہد اور اعدادوشمار کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔فیصل آباد ریجن کا تجربہ ثابت کرتا ہے کہ موثر قیادت، انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں، منظم جرائم کے خلاف فیصلہ کن اقدامات، اشتہاری مجرموں کی گرفتاری، عوامی شراکت داری، اہلکاروں کی فلاح اور جوابدہی پر مبنی انتظامی نظام مل کر ایک ایسا پولیسنگ ماڈل تشکیل دے سکتے ہیں جس سے نہ صرف جرائم میں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال کیا جا سکتا ہے۔آخرکار کسی بھی پولیس فورس کی کامیابی صرف جرائم کے اعدادوشمار سے نہیں بلکہ عوام کے اعتماد سے ناپی جاتی ہے۔ سر رابرٹ پیل نے بجا طور پر کہا تھا کہ ”پولیس کی اصل کامیابی جرائم کے بعد کارروائی میں نہیں بلکہ جرائم اور بدامنی کے نہ ہونے میں ہے”۔ فیصل آباد ریجن پولیس کا حالیہ تجربہ اس حقیقت کی عملی مثال ہے کہ اگر وژنری قیادت، جدید پولیسنگ، موثر حکمت عملی، شفاف احتساب اور عوامی شراکت داری کو یکجا کر دیا جائے تو محدود وسائل کے باوجود بھی محفوظ اور پرامن معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ یہی ماڈل پاکستان کے دیگر علاقوں کے لیے بھی ایک قابلِ عمل اور پائیدار رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ڈاکٹر محمد رضوان بھٹی پنجاب پولیس میں انسپکٹر ہیں۔ وہ سیاسیات میں پی ایچ ڈی کے حامل ہیں اور پولیسنگ، دہشت گردی، انسدادِ دہشت گردی، انسدادِ انتہاپسندی اور عوامی پالیسی پر لکھتے ہیں۔




