واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک )امریکی حکام کے مطابق ایران نے امریکی دفاعی نظام کو ناکام بنانے کے لیے اپنی حملہ آور حکمت عملی میں تبدیلی کی ہے۔تہران اب ایسے میزائل استعمال کر رہا ہے، جو انتہائی تیز رفتاری سے حرکت کرتے ہیں اور ہدف کی جانب بڑھتے ہوئے اپنی سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اس پیش رفت نے حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی ایران کی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے، جبکہ واشنگٹن میں یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ شاید ایران کو روس یا چین سے انٹیلی جنس یا تکنیکی مدد مل رہی ہو۔یہ بات امریکی اخبار نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کی ہے۔سیاسی ردعمل میں متعدد امریکی قانون سازوں نے ہلاک ہونے والے فوجیوں کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ان میں ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن اور سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی میں ڈیموکریٹس کی سینیئر رکن جین شاہین بھی شامل ہیں۔ جین شاہین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ اس تباہ کن جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کریں۔




