لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) نیند کا وقت میٹابولک صحت کے لیے اہم ثابت ہوسکتا ہے، خاص طور پر رات گئے تک جاگنے سے ذیابیطس، موٹاپے اور دیگر امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ جرنل فرنٹیئر میں شائع تحقیق میں دیکھا گیا تھا کہ سونے جاگنے کے اوقات مختلف عناصر جیسے جسمانی وزن اور غذائی انتخاب پر کیا اثرات مرتب کرتے ہیں۔اس تحقیق میں ڈھائی سو سے زائد خواتین کو شامل کیا گیا اور دریافت ہوا کہ رات گئے تک جاگنے والی خواتین میں کھانے کی اشتہا زیادہ ہوتی ہے جبکہ ان میں جسمانی چربی کی مقدار بھی زیادہ ہوتی ہے۔اسی طرح ان خواتین میں بلڈ شوگر کے مسائل کا امکان زیادہ ہوتا ہے جبکہ خون میں چکنائی کی سطح بھی بدتر ہوتی ہے اور موٹاپے کا سامنا بھی زیادہ ہوتا ہے۔ان خواتین کی عمریں 18 سے 45 سال کے درمیان تھیں اور ان کے 2 گروپس بنائے گئے، جن میں سے ایک گروپ کا جسمانی وزن صحت مند تھا جبکہ دوسرے گروپ میں موٹاپے کی جانب مائل خواتین کو شامل کیا گیا۔ان خواتین کے خون کے نمونے اکٹھے کیے گئے اور ان سے سونے جاگنے کے اوقات معلوم کیے گئے۔ان کے جسمانی وزن کے ڈیٹا کے ساتھ 5 دن تک غذاں کے استعمال کی تفصیلات بھی حاصل کی گئیں اور پھر انہیں کلائیوں میں ٹریکرز پہنائے گئے، جس سے محققین کو ان کی جسمانی سرگرمیوں اور نیند کی عادات کے بارے میں جاننے میں مدد ملی۔اس سے محققین یہ تعین کرنے میں کامیاب رہے کہ کونسے افراد صبح جلد اٹھنے کے عادی ہیں یا رات گئے تک جاگتے ہیں اور ان 2 انتہاں کے درمیان موجود خواتین کو الگ گروپ میں رکھا گیا۔50 فیصد سے زائد خواتین تیسرے گروپ میں شامل تھیں جو نہ زیادہ دیر تک جاگنے یا صبح جلد جاگنے والی نہیں تھیں۔ان خواتین کو صبح جلد جاگنے والے گروپ میں شامل کر دیا گیا اور پھر رات گئے جاگنے والی خواتین کا جائزہ لیا گیا۔ان خواتین کا جسمانی وزن دیگر سے زیادہ تھا جبکہ توند کی چربی کی سطح بھی زیادہ تھی۔محققین نے دریافت کیا کہ ان خواتین میں بلڈ شوگر اور خون میں چکنائی بڑھ جاتی ہے، البتہ صبح جلد جاگنے والے افراد میں کولیسٹرول کی سطح کو زیادہ دریافت کیا گیا۔محققین کے مطابق رات گئے تک جاگنے والی خواتین روزانہ زیادہ مقدار میں کاربوہائیڈریٹس کا استعمال کرتی ہیں، جس کے باعث جسمانی توانائی میں کمی کا سامنا ہوتا ہے۔محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ رات گئے تک جاگنے اور انسولین کی سطح میں اضافے کے درمیان بھی تعلق موجود ہے، جس سے ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ بڑھتا ہے۔اسی طرح پھلوں اور سبزیوں کا کم استعمال کرتی ہیں جبکہ چکنائی سے بھرپور غذائیں زیادہ پسند کرتی ہیں جس سے موٹاپے کا خطرہ بڑھتا ہے۔




