بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر سیاستدان مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ چین میں منعقدہ ورلڈ پیس فورم میں خطے میں پاکستان کے کردار کو سراہا گیا،دوہرے معیار کے سبب مغرب کی قیادت میں قائم عالمی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکارہے۔چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ممتاز سنگھوا یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام منعقدہ ورلڈ پیس فورم سے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ گلوبل ساؤتھ کی قیادت میں ایک نیا عالمی نظام ابھریکیونکہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد مغرب کی قیادت میں قائم قواعد پر مبنی عالمی نظام دوہرے معیار کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہے کیوں کہ یہ نہ تو عالمی نظم و ضبط کو فروغ دے سکا اور نہ ہی حقیقی معنوں میں کسی اصول و ضوابط پر مبنی تھا۔ورلڈ پیس فورم سے چین کے نائب صدر ہان ڑینگ نے بھی خطاب کیا۔ افتتاحی اجلاس میں ان کی تقریر کے بعد سینیٹر مشاہد حسین سید نے تقریباً 30 ممالک سے آئے ہوئے 100 بین الاقوامی مہمانوں کے اجتماع سے اپنا کلیدی خطاب کیا۔ورلڈ پیس فورم کے مقررین جن میں انڈونیشیا اور سربیا کے سابق وزرائے خارجہ کے علاوہ چینی میزبان بھی شامل تھے نے پاکستان کی فعال سفارت کاری کو سراہتے ہوئے اسے وسیع تر مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے طاقت کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا۔سینیٹر مشاہد حسین سید نے پاکستان اور چین کے تعلقات کے حوالے سے سال 2026 کی اہمیت کا بھی ذکر کیا، کیونکہ اس سال دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کو 75 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اس تعلق کو دو ہمسایہ ممالک کے درمیان ایک منفرد شراکت داری قرار دیا، جو اب آئرن برادرزکے رشتے میں تبدیل ہو چکی ہے اور جس کی ہمہ جہت اور وسیع البنیاد نوعیت کی حالیہ بین الاقوامی تعلقات میں کوئی مثال نہیں ملتی۔انہوں نے 2026 سے 2030 کے لیے پاک چین تعلقات کے اسٹریٹجک ورک پلان کا بھی حوالہ دیا جسے انہوں نے دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے، فروغ دینے اور مضبوط بنانے کے لیے ایک جامع لائحہ عمل قرار دیا۔چین کے کردار پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین سید نے چینی دانش و بصیرت کو سراہا جو پانچ ہزار سالہ تہذیب کے تجربے کی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے کسی جارحیت، حملے، قبضے یا نوآبادیاتی تسلط کے بغیر پْرامن انداز میں ترقی کی ہے اور آج وہ دنیا کی ایک نمایاں عالمی طاقت کے طور پر ریاستہائے متحدہ امریکہ کے ہم پلہ کھڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس حقیقت کا اعتراف صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی مئی میں اپنے دورہ چین کے دوران کیا جب انہوں نے چین اور امریکہ کے تعلقات کو G2 قرار دیا۔سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ یہ چین کی مدبرانہ اور نہایت مہارت سے انجام دی گئی سفارت کاری کو خراجِ تحسین ہے کہ اس نے ایک ہی سال کے دوران بغیر ایک بھی گولی چلائے دو جنگیں جیت لیں۔انہوں نے اس تناظر میں بھارت۔پاکستان تنازع اور ایران کے خلاف امریکہ۔اسرائیل جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا کے تنازع میں مغربی ٹیکنالوجی کے مقابلے میں چینی ٹیکنالوجی نے برتری حاصل کی۔ اسی طرح انہوں نے کہا کہ خلیجی تنازع کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں چین وہ اصول پسند طاقت ہے جس پر تمام فریق اعتماد کرتے ہیں۔جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون پر گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین سید نے آسیان (ASEAN) کی کامیابی اور سارک (SAARC) کی ناکامی کا تقابل کیا اور کہا کہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انڈونیشیا نے ایک بڑے ملک ہونے کے باوجود آسیان میں ہمیشہ کم نمایاں کردار، برابری اور باہمی احترام پر مبنی رویہ اختیار کیا جبکہ اس کے برعکس بھارت نے اپنے چھوٹے سارک ہمسایہ ممالک پر دھونس جمانے کی کوشش کی۔سینیٹر مشاہد حسین سید کی تقریر کے دوران بھارت کے سابق قومی سلامتی کے مشیر اور پاکستان میں سابق بھارتی ہائی کمشنر شیو شنکر مینن بھی سامعین میں موجود تھے۔اپنے خطاب کے اختتام پر سینیٹر مشاہد حسین سید نے 1970 کی دہائی کے اوائل میں ایک کالج طالب علم کی حیثیت سے اپنے دور? چین کو محبت اور گرمجوشی سے یاد کیا اور تمام رکاوٹوں پر قابو پانے کے حوالے سے چیئرمین ماؤ کا یہ قول نقل کیا: “اس دنیا میں کوئی چیز مشکل نہیں، اگر آپ بلندیاں سر کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں!” چیئرمین ماؤ کے اس قول کو حاضرین نے بے حد سراہا۔چین کی کمیونسٹ پارٹی کے بین الاقوامی شعبے (IDCPC) کی دعوت پر سینیٹر مشاہد حسین سید نے مغربی چین کے علاقے ننگشیا میں ”شی جن پنگ فکر اور غربت کے خاتمے” کے موضوع پر منعقدہ ایک خصوصی کانفرنس میں ایشیائی ممالک کے نمائندوں اور کرغزستان، نیپال، کمبوڈیا اور چین کے اسکالرز کے درمیان ہونے والے مکالمے کی صدارت بھی کی۔مکالمے کی صدارت کرتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین سید نے غربت کے خاتمے کے میدان میں چین کی غیر معمولی کامیابی کو سراہا اور کہا کہ چین نے 40 برس کے عرصے میں 80 کروڑ افراد کو غربت سے نکالا، جس کے نتیجے میں ملک سے مطلق غربت کا مکمل خاتمہ ہو گیا۔ننگشیا میں منعقدہ اس کانفرنس میں ایشیا، افریقہ، لاطینی امریکہ، یورپ اور شمالی امریکہ سمیت پانچ براعظموں سے تعلق رکھنے والے 150 سیاسی رہنماؤں، رائے ساز شخصیات، میڈیا نمائندوں اور تھنک ٹینکس کے نمائندوں نے شرکت کی۔اپنے قیام کے دوران سینیٹر مشاہد حسین سید نے چین کی اعلیٰ قیادت سے بھی ملاقاتیں کیں، جن میں چین کے نائب صدر ہان ڑینگ اور چین کی کمیونسٹ پارٹی کے بین الاقوامی شعبے (IDCPC) کے وزیر لیو ہائی شِنگ شامل تھے۔




