”ویسٹ ٹو ویلیو”منصوبے پر مشترکہ کاوشیں عمل میں لائینگے،وائس چانسلر

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) فیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ کمپنی اور زرعی یونیورسٹی فیصل آباد نے میونسپل کچرے کو صاف توانائی، نامیاتی کھاد اور دیگر مفید مصنوعات میں تبدیل کرنے کے لیے ”ویسٹ ٹو ویلیو” منصوبے پر مشترکہ کاوشیں عمل میں لائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار زرعی یونیور سٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی اور ایف ڈبلیو ایم سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عابد حسین بھٹی کے مابین ہونے والی ملاقات میں کیا گیا۔ ملاقات میں ڈائریکٹر فارمز ڈاکٹر محمد اسلم، ڈاکٹر محمد نوید، چیئرمین شعبہ ایگرانومی ڈاکٹر ندیم اکبر، پرنسپل آفیسر جہانزیب طارق، ایف ڈبلیو ایم سی کے ڈسٹرکٹ منیجر عطاالمحسن، شہزاد حسین بیگ بھی موجود تھے۔ اجلاس میں کچرے کو ماحولیاتی مسئلے کے بجائے معاشی اور زرعی وسائل میں تبدیل کرنے کے لیے ایک عملی اور پائیدار نظام وضع کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کہا کہ کچرے کو صاف توانائی اور نامیاتی کھاد میں تبدیل کرنے سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی، زمین کی زرخیزی میں اضافہ اور پائیدار زراعت کے فروغ میں مدد ملے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مقامی سطح پر کم لاگت، مؤثر اور قابلِ توسیع ٹیکنالوجیز تیار کی جائیں جنہیں دیگر شہروں اور علاقوں میں بھی کامیابی سے اپنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی حقیقی مسائل کے حل اور معاشرے کے لیے عملی نتائج فراہم کرنے والی تحقیق کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔ ان کے مطابق ایف ڈبلیو ایم سی کے ساتھ یہ اشتراک تعلیمی تحقیق اور عملی میدان کے درمیان موجود خلا کو کم کرے گا، کیونکہ محققین کو حقیقی میونسپل کچرے پر تحقیق اور پائیدار ٹیکنالوجیز کی آزمائش کا موقع ملے گا اور طلبہ کو سیکھنے کے مواقع میسر آئیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں جیسے چیلنجز سے نبردآزما ہونے کے لئے ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانا ناگزیر ہے۔ ایف ڈبلیو ایم سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عابد حسین بھٹی نے کہا کہ کمپنی زرعی یونیورسٹی کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور یونیورسٹی کی سائنسی و تکنیکی مہارت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ویسٹ مینجمنٹ کے لیے پائیدار حل تیار کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کو میونسپل کچرا فراہم کرنے سے ایسی تحقیق اور جدت کو فروغ ملے گا جس کے ذریعے کچرے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کیا جا سکے، لینڈ فل سائٹس پر بوجھ کم ہو اور شہری ماحول بہتر بنایا جا سکے۔ اس منصوبے کے ذریعے میونسپل کچرے کو توانائی، نامیاتی کھاد اور دیگر ویلیو ایڈڈ مصنوعات میں تبدیل کرکے نہ صرف ویسٹ مینجمنٹ کے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں کمی، قابلِ تجدید توانائی کے فروغ اور پائیدار زرعی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا جا سکے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں