واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) جیٹ فیول کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے نے امریکی فضائی کمپنیوں کی مالی منصوبہ بندی کو شدید متاثر کر دیا ہے، جس کے باعث کئی ایئرلائنز کو اپنی سالانہ آمدنی اور منافع کی پیش گوئیوں پر نظرثانی کرنا پڑی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ ے مطابق امریکن ایئرلائنز رواں ماہ کے آغاز میں اپنے 2026 کے منافع کی پیش گوئی بڑھانے کی تیاری کر رہی تھی، تاہم صرف 13 روز کے اندر باقی سال کے لیے ایندھن کے متوقع اخراجات میں تقریبا 1.6 ارب ڈالر اضافے کے بعد کمپنی نے اپنی مالی توقعات کم کر دیں۔ماہرین کے مطابق ایئرلائنز کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ جیٹ فیول کی قیمتیں چند دنوں میں تیزی سے بڑھ سکتی ہیں، جبکہ ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافہ فوری طور پر ممکن نہیں ہوتا کیونکہ اس کا اطلاق صرف مستقبل میں فروخت ہونے والے ٹکٹوں پر ہوتا ہے۔امریکی ایئرلائنز کے چیف فنانشل آفیسر ڈیون مے نے رائٹرز کو بتایا کہ اگر کمپنی نے اپنی مالی پیش گوئی 10 جولائی کو جاری کی ہوتی تو منافع میں اضافے کی توقع ظاہر کی جاتی، مگر بعد میں ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے صورتحال یکسر بدل دی۔رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کمزور پڑنے کے بعد 2 جولائی سے 22 جولائی کے دوران جیٹ فیول کی اسپاٹ قیمتوں میں تقریبا 30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس نے پوری ایئرلائن انڈسٹری کے مالی منظرنامے کو متاثر کیا۔اگرچہ سفری طلب مضبوط ہے اور کئی کمپنیوں نے کرایوں میں اضافہ بھی کیا ہے، تاہم حاصل ہونے والی اضافی آمدنی ایندھن کے بڑھتے اخراجات کو مکمل طور پر پورا نہیں کر سکی۔اسی دوران ڈیلٹا ایئر لائنز نے اپنی سالانہ مالی پیش گوئی برقرار رکھی، یونائیٹڈ ایئرلائنز نے اپنے تخمینے کے نچلے درجے میں بہتری لائی، جبکہ ساتھ ویسٹ ایئرلائنز نے اپنی پیش گوئی کم کر دی اور الاسکا ایئر نے سالانہ مالی رہنمائی بحال کرنے سے گریز کیا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جیٹ فیول کی قیمتیں بلند رہیں تو ایئرلائنز کے لیے قرضوں میں کمی، نئے طیاروں میں سرمایہ کاری اور منافع برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے، جبکہ مستقبل میں فضائی کرایوں میں اضافے کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔




