ساہیوال میں جگہ جگہ کھلاپٹرول فروخت ہونے لگا

ساہیوال ( بیورو چیف) ضلع بھر میں غیر قانونی منی پٹرول پمپس کی بھر مار سے بڑے حادثے کا خدشہ ہے، بغیر این اوسی کے آبادیوں میں ہزاروں لٹر پٹرول کا ذخیرہ کر لیا گیا، متعدد حادثات کے باوجود انتظامیہ کاروائی کرنے سے گریزاں ہے، تحصیل بھر میں بغیر کسی حفاظتی اقدامات کے قائم منی پٹرول پمپوں کی بھر مار نے شہریوں کی زندگیوں کو شدید خطرات سے دو چار کر دیا ہے۔ گنجان آباد علاقوں، تجارتی مراکزی گلیوں اور اہم شاہراہوں پر قائم ان غیر قانونی پمپوں پر روزانہ ہزاروں لیٹر انتہائی آتش گیر ایندھن بغیر کسی حفاظتی تدابیر کے ذخیرہ کیا جا رہا ہے، جبکہ تحصیل انتظامیہ اس کی روک تھام میں مکمل طور پر نا کام دکھائی دیتی ہے۔ مقامی شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ شہر کی ہر دوسری گلی اور موڑ پر مشینیں لگا کر کھلے عام پٹرول کی فروخت جاری ہے۔ ان غیر قانونی ایجنسیوں پر نہ تو آگ بجھانے والے آلات موجود ہیں اور نہ ہی سول ڈیفنس یا پیٹرولیم ڈائریکٹوریٹ کے مقررہ قواعد وضوابط پر عمل کیا جا رہا ہے۔ رہائشی علاقوں کے بیچوں بیچ قائم یہ پمپ ہر وقت کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتے ہیں۔ ماضی میں بھی منی پیٹرول پمپوں پر آتشزدگی کے متعد د لرزہ خیز واقعات پیش آچکے ہیں جس سے لاکھوں روپے کا مالی نقصان ہوا، مگر اس کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے کوئی مستقل حل نہیں نکالا گیا۔ حادثہ رونما ہونے کے بعد چند دن دکھاوے کے لیے سیلنگ کی جاتی ہے اور بعد ازاں یہ کاروبار پھر سے بحال ہو جاتا ہے۔ عوامی حلقوں نے اعلیٰ حکام، بالخصوص کمشنر اور ڈپٹی کمشنر سے اپیل کی ہے کہ ضلع بھر میں قائم ان غیر قانونی منی پٹرول پمپوں کے خلاف فوری طور پر بلا امتیاز گرینڈ آپریشن کا آغاز کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں