غضنفر چھینہ سے نامناسب رویہ،میاں طاہر جمیلRPOسہیل اختر سکھیرا پر برس پڑے

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) سدابہار ایم پی اے وممبر استحقاق کمیٹی پنجاب میاں طاہر جمیل نے کہا ہے کہ سرکاری افسران کا پارلیمنٹرین سے نامناسب رویہ کسی صورت برداشت نہیں۔ اگر قانون نافذ کرنیوالے اداروں سے ہی قانون شکنی کے سوالات اٹھیں تو عام شہری انصاف کیلئے کس سے رجوع کرے۔ قانون سب کے لیے برابر اور ذمہ داران سے جواب لینا ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے رکن پنجاب اسمبلی غضنفر عباس چھینہ کی تحریک استحقاق کمیٹی پر آر پی او فیصل آباد سہیل اختر سکھیرا سے جواب طلب کرتے ہوئے کیا۔ ممبر صوبائی اسمبلی غضنفر عباس چھینہ نے استحقاق کمیٹی کو بتایا کہ وہ جھنگ میں مقدمہ قتل کے حوالے سے آر پی او سہیل اختر سکھیرا سے ملے تو انہوں نے بُرے ناروا رویہ سے کہا کہ میں آپکو جواب دہ نہیں ہوں، میں صرف یہ جواب چاہتا ہوں آر پی او نے کس قانون کے تحت کہا کہ وہ جواب دہ نہیں ہیں۔ جواب میں سہیل اختر سکھیرا نے موقف اختیار کیا کہ رکن اسمبلی سرگودھا سے ہیں اور جھنگ میں قتل کے معاملہ کو لے کر آئے، میں تو ہر ایک کو جواب دہ ہوں، رکن اسمبلی کی دل آزاری مقصد نہیں تھا کیونکہ موصوف ملزم کو ساتھ لیکر آئے اور ملزم کے سامنے جواب دینے سے انکار کیا۔ رکن استحقاق کمیٹی پنجاب اسمبلی میاں طاہر جمیل نے کہا کہ ممبر پنجاب اسمبلی کا تعلق صوبہ کے کسی بھی ضلع’ تحصیل یا کونے سے ہو، اس کیساتھ غیر مناسب رویہ اختیار کرنا کسی بھی افسر کو زیب نہیں دیتا اور آر پی او کس قانون کے تحت کہہ رہے ہیں کہ جواب دہ نہیں، عدالت نے ملزم کو ضمانت دی ہے ابھی وہ مجرم نہیں ہے۔ پنجاب پولیس عوام کو سروسز دینے کیلئے ہے۔ ابھی بھی آر پی او سہیل اختر سکھیرا کا استحقاق کمیٹی کے سامنے جو رویہ تھا، یہ کیا قابل برداشت ہے۔ یہ بات افسران کو سمجھنی چاہیے کہ وہ عوام کو سروسز دینے کے لیے محکمہ میں آئے ہیں اور ٹک ٹاکر والی بات ہونے لگی ہے، اس کو حذف کیا جائے۔ میاں طاہر جمیل نے کہا کہ آر پی او فیصل آباد نے جواب لکھا ہے کہ وہ پبلک ڈیلنگ کرتے ہیں اگر وہ اتنی پبلک ڈیلنگ کرتے ہیں تو شکایات ہمارے تک آنی ہی نہیں چاہیے۔ اگر عوام کو انصاف مل رہا ہو تو لوگ ہمارے ڈیروں اور دفاتر تک نہ آئیں’ سرکاری افسران رویہ درست کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں