واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) مشرقِ وسطی میں تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات اور امریکا ایران امن معاہدے کے امکانات پر بڑھتے شکوک کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔برینٹ خام تیل کے مستقبل کے معاہدے کی قیمت 72 سینٹ، یعنی 0.81 فیصد اضافے کے بعد 89.80 ڈالر فی بیرل ہوگئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت 71 سینٹ، یعنی 0.85 فیصد بڑھ کر84.09 ڈالر فی بیرل پہنچ گئی۔دونوں بینچ مارک منگل کو بھی ایک ڈالر سے زائد اضافے کے ساتھ 31 جولائی کے بعد بلند ترین سطح پر بند ہوئے تھے، پیر کو بھی تیل کی قیمتوں میں تقریبا 5 فیصد اضافہ ہوا تھا، جس کی بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں میں کمی تھی۔امریکا اور ایران کے حمایت یافتہ یمن کے حوثیوں نے آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری جہازوں پر الگ الگ حملوں کی اطلاعات دیں، جس سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کے حوالے سے تشویش مزید بڑھ گئی۔ایران کے اعلی سکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکا ایران کی شرائط تسلیم نہیں کرتا، ان شرائط میں منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی اور خطے میں دیگر تنازعات کا خاتمہ شامل ہے۔شپنگ ڈیٹا کے مطابق آبنائے ہرمز سے صرف 6 بحری جہاز گزرے، جبکہ گزشتہ 10 دن کی اوسط تقریبا 11 جہاز یومیہ تھی۔ جنگ سے قبل اس اہم آبی گزرگاہ سے روزانہ اوسطا 125 سے 140 بحری جہاز گزرتے تھے۔دوسری جانب امریکی تیل کے ذخائر میں اضافے نے قیمتوں میں اضافے کو کچھ حد تک محدود کیا۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق امریکن پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ (API) کے اعداد و شمار میں 7 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران امریکی خام تیل کے ذخائر میں تقریبا 9.1 ملین بیرل کا نمایاں اضافہ ہوا۔اسی عرصے میں پٹرول کے ذخائر میں 1.5 ملین بیرل جبکہ ڈیزل اور دیگر کشید شدہ مصنوعات کے ذخائر میں 596,000 بیرل کمی ہوئی۔امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA) کے سرکاری اعداد و شمار بدھ کو جاری کیے جائیں گے، ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کے ذخائر میں بڑے اضافے کی سرکاری طور پر تصدیق ہوجاتی ہے تو اس سے سپلائی کی قلت سے متعلق خدشات میں کچھ کمی آسکتی ہے۔طویل مدتی صورتحال کے حوالے سے EIA نے اندازہ لگایا ہے کہ مشرقِ وسطی میں خام تیل کی سپلائی میں تقریبا 600,000 بیرل یومیہ کی رکاوٹ 2027 کے اختتام تک برقرار رہ سکتی ہے۔




