پاکستان نے خطے میں قیام امن اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں، اسی سلسلے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ایران بڑی اہمیت کا حامل ہے، جس کے دوران وہ اعلیٰ ایرانی حکام سے ملاقاتیں بھی کرینگے، جن میں علاقائی امن وسلامتی’ موجودہ صورتحال اور پاک ایران دوطرفہ تعاون سمیت اہم امور پر بھی تبادلہ خیال ہو گا۔ ایرانی وزارت کارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے چیف فیلڈ مارشل کا دورہ ایران خطے میں امن واستحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کا تسلسل ہے۔ دورے کا مقصد ایران پاکستان تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے جبکہ دورے کے دوران باہمی دلچسپی کے امور اور دوطرفہ تعاون کے فروغ پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے ساتھ ٹرمپ کے اقدامات نے دنیا بھر کے ممالک میں ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی خواہش کو بڑھا دیا ہے، اس خواہش میں تب اضافہ ہوا جب دنیا کے ممالک نے دیکھا کہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی اور جوہری عدم پھیلائو کے معاہدے (این پی ٹی) کی رکنیت امریکہ کی جانب سے حملوں کو روکنے میں غیر موثر رہی ہے۔ ایران نے تمام بین الاقوامی حفاظتی اقدامات کو قبول کیا ہے۔ ان کی مکمل تکمیل کی ہے۔ ایران این پی ٹی کارکن ہے اور معائنے پر بھی رضا مند ہوا ہے۔ ایران ایٹمی ضوابط کی پاسداری میں دیگر تمام ممالک سے آگے ہے۔ آج کا ایران جنگ سے پہلے والا ایران نہیں ہے۔ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے حالیہ نئی فوجی تقرریاں اس بات کی واضح نشاندہی کرتی ہے کہ ایران جنگ کے لیے ہر دم تیار رہنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران کے اردگرد کے ممالک اس اقتصادی جنگ میں امریکیوں کا ساتھ دیتے ہیں تو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے تیل کا ایک قطرہ بھی باہر نہیں جائے گا اور ہم خلیج فارس سے تیل کی برآمد کے دیگر راستوں کو بھی نشانہ بنائیں گے، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کی یہ باتیں ان کا اپنا نقطہ نظر ہے تاہم پاکستان کی جانب سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ اس امر کا واضح اظہار ہے کہ اسلام آباد خطے میں محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل کو ترجیح دیتا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں پاکستان پہلے ہی فریقین کے درمیان پائیدار امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ تہران اسی سفارتی عمل کو آگے بڑھانے کی ایک اہم کڑی بھی قرار دیا جا رہا ہے جبکہ ان کی ایرانی قیادت سے ملاقاتیں خطے میں امن کے امکانات کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ موجودہ حالات میں پاکستان کی متوازن اور فعال سفارت کاری نہ صرف قومی مفاد بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے اہم ہے۔ امید ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ایران باہمی اعتماد میں اضافے’ ایران امریکہ کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے راستے کو ہموار کرنے میں مثبت پیش رفت کا باعث بنے گا۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنی سفارتی کوششیں تسلسل کے ساتھ جاری رکھتے ہوئے خطے کو مزید تصادم سے بچانے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے۔ پاکستان نے اس سلسلے میں اپنی سفارتی کوششوں کو اس وقت بھی جاری رکھا جس وقت ایران امریکہ تعلقات انتہائی کشیدہ نوعیت کے تھے، موجودہ حالات میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ تہران اس بات کی غمازی کر رہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کا متلاشی ہے، اس وقت پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر لگی ہوئی ہیں۔ ایران امریکہ جنگ کو ختم کرانے میں پاکستان کا کردار خوش آئند ثابت ہو گا۔




