فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) محکمہ زراعت پنجاب نے کپاس کے کاشتکاروں کو گلابی سنڈی (Pink Bollworm) کے ممکنہ حملے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے پیداواری نقصان سے بچا کے لئے بروقت اور موثر حفاظتی اقدامات اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ گلابی سنڈی کپاس کے پھولوں،ٹینڈوں اور بیجوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور شدید حملے کی صورت میں کپاس کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوسکتی ہے۔ تحقیقی شواہد کے مطابق شدید حملہ پیداوار میں 30 فیصد تک کمی کا سبب بن سکتا ہے۔کاشتکاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کپاس کے کھیتوں میں ہفتے میں کم از کم دو مرتبہ باقاعدگی سے پیسٹ سکاوٹنگ کریں اور گلابی سنڈی کی بروقت تشخیص کے لئے فیرومون ٹریپس نصب کریں۔ موجودہ ماہرین کی سفارش کے مطابق نگرانی کے لئے تقریبا ایک فیرومون ٹریپ فی 5 ایکڑ جبکہ انتظامی کنٹرول کے لئے 8 تا 10 ٹریپس فی ایکڑ استعمال کئے جا سکتے ہیں۔گلابی سنڈی کی موجودگی جانچنے کے لئے مختلف حصوں سے 20 نرم ٹینڈے، جن کی عمر تقریبا 14 تا 18 دن ہو، منتخب کرکے 3 تا 4 دن تک مشاہدے میں رکھے جائیں اور بعد ازاں انہیں کھول کر سنڈی کی موجودگی کا جائزہ لیا جائے۔ اگر 100 ٹینڈوں میں تقریبا 5 فیصد یا اس سے زیادہ حملہ سامنے آئے تو کیمیائی تدارک ضروری سمجھا جاتا ہے۔




