صفدرآباد(نامہ نگار)امامیہ کالونی صفدرآباد لا وارث،سیوریج کا سسٹم کون شروع کروائے گا ،لوگوں کے گھروںکا گندہ پانی ریلوے ایسٹ کیبن کے قریب جمع ہو کر ایک جوہڑ کی شکل اختیار کر گیاجس نے آہستہ آہستہ ریلوے کی جگہ کو ٹریک کے ساتھ ساتھ اپنی لپیٹ مین لینا شروع کر دیا ہے لیکن افسوس ہے ریلوے حکام پر اور اسسٹنٹ کمشنر پر ،چیف آفیسر میونسپل کمیٹی پر ان میں سے کوئی ایک بھی سیوریج کے نظام کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں یا پھر ان کو اس کا علم نہیں ۔ حد ہو گئی ہے اس نظام کی کارکردگی کی کہ ایک ادارہ بھی متحرک نہیںہو پا رہا ،پہلے والے ادارے ناکام ہوتے جا رہے ہیں اوپر سے نئے نئے ادارے وجود میں آتے جا رہے ہیں جیسے پیرا فورس ۔شہریوں نے نمائندہ ڈیلی بزنس رپورٹ کو بتایا آپ ریلوے ایسٹ کیبن پر جا کر دیکھیںاور ان تمام اداروں کی بے حسی کا مشاہدہ کریں ماتم کرنے کو دل کرے گا۔اسسٹنٹ کمشنر یا تو اس سارے معاملے سے لا تعلقی کا اظہار کریں یا ایکشن لے کر اس مسئلے کو حل کریں ۔میونسپل کمیٹی کیا کر رہی ہے چیف آفیسر عوام کو جواب دیں۔اگر یہ دونوں کام نہیں کرتے تو مریم نواز انکوائری کروا کر کام چوروںکو سزا دیں ،نیک افسر اپوائنٹ کریں ،اگر نہیں تو رہلوے حکام میدان میں نکلیں اپنی جگہ کو چار دیواری میں محفوظ کریںاور امامیہ کالونی کے گھروں کے گندے پانی کو روک دیں ۔کمیٹی جانے یا ان کا کام جانے۔شہر کو کیوں گندگی میں ڈبویا جا رہا ہے ؟مسئلہ صرف گندے پانی کے نکاس کا ہے اگر یہ ادارے ناکام ہیں تو بات عوام کی کورٹ میں رکھیں کوئی نہ کوئی حل تو نکلنا چاہیئے۔شہری بات کرنے کا حق رکھتے ہیں آئین اس کی ضمانت دیتا ہے،عوام کے حقوق کو پامال نہیں کیا جا سکتااگر امامیہ کالونی کے مکین قصور وار ثابت ہوں تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے ۔




