کولیسٹرول کم کرنے کیلئے نیا طریقہ علاج دریافت

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) سائنس دانوں نے کولیسٹرول کم کرنے کے لیے ایک نئے اور مختلف طریقہ علاج پر اہم پیش رفت کی ہے۔ ابتدائی تحقیق میں ایک ایسی جینیاتی دوا استعمال کی گئی جس کی صرف ایک خوراک دینے کے بعد مریضوں کے خراب کولیسٹرول میں تقریباً 50 فیصد کمی دیکھی گئی اور یہ اثر ایک سال تک برقرار رہا۔یہ تحقیق نومبر 2025 میں طبی جریدے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہونے والی ابتدائی تحقیق کے تازہ نتائج پر مبنی ہے. یہ تحقیق ایسے افراد پر کی گئی جن کا کولیسٹرول بہت زیادہ تھا اور عام دواں سے بھی قابو میں نہیں آ رہا تھا۔ تحقیق میں صرف 15 افراد شامل تھے، اس لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی اس علاج کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا اور مزید بڑی تحقیق ضروری ہے۔اس تجرباتی علاج میں سی آر آئی ایس پی آر- سی اے ایس9 نامی جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی۔ آسان الفاظ میں اسے ایسی جینیاتی قینچی کہا جا سکتا ہے جو جسم کے جین میں موجود ایک خاص حصے کو تبدیل کر سکتی ہے۔ سائنس دانوں نے اے این جی پی ٹی ایل3 نامی جین کو نشانہ بنایا، جو جسم میں کولیسٹرول اور خون میں موجود ایک خاص قسم کی چربی یعنی ٹرائی گلیسرائیڈز کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔سی این این میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر لیوک لافن نے کہا، ہمیشہ یہ سوال تھا کہ کیا یہ واقعی ایک بار کیا جانے والا علاج ہو سکتا ہے؟ ان کے مطابق نئی معلومات سے معلوم ہوا ہے کہ علاج کے دو ماہ بعد کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائیڈز میں جو کمی آئی تھی، وہ ایک سال بعد بھی برقرار رہی۔جن چار افراد کو دوا کی سب سے زیادہ خوراک دی گئی، ان میں نتائج سب سے بہتر رہے۔ دو ماہ بعد ان کے خراب کولیسٹرول یعنی ایل ڈی ایل میں تقریبا 50 فیصد کمی ہوئی، جبکہ ٹرائی گلیسرائیڈز میں تقریبا 55 فیصد کمی دیکھی گئی۔ ایک سال بعد بھی ایل ڈی ایل تقریبا 53 فیصد اور ٹرائی گلیسرائیڈز تقریبا 48 فیصد کم رہے۔ایل ڈی ایل کو عام طور پر خراب کولیسٹرول کہا جاتا ہے۔ اگر یہ جسم میں زیادہ ہو جائے تو خون کی نالیوں میں چربی جمع ہونے لگتی ہے، جس سے دل کی بیماری اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔اس علاج کا خیال بھی ایک قدرتی جینیاتی تبدیلی سے لیا گیا ہے۔ کچھ لوگوں کے جسم میں اے این جی پی ٹی ایل3 نامی جین قدرتی طور پر کام نہیں کرتا۔ ایسے افراد میں کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائیڈز زندگی بھر کم رہ سکتے ہیں اور انہیں دل کی بیماری کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔کلیولینڈ کلینک کے ڈاکٹر اسٹیون نِسن نے کہا، یہ قدرتی طور پر ہونے والی ایسی تبدیلی ہے جو دل کی بیماری سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔ ان کے مطابق سی آر آئی ایس پی آر ٹیکنالوجی کی مدد سے سائنس دان دوسرے لوگوں میں بھی ایسی تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس علاج میں خاص طور پر جگر کو نشانہ بنایا گیا ہے، کیونکہ جگر جسم میں کولیسٹرول بنانے اور خون سے اضافی چربی نکالنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ محققین کے مطابق صرف جگر کو نشانہ بنانے سے جسم کے دوسرے حصوں کے جین میں غیر ضروری تبدیلی کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت موجود کولیسٹرول کی دوائیں بھی ایل ڈی ای۔ایل کو کافی حد تک کم کر سکتی ہیں۔ ڈاکٹر پردیپ نٹراجن نے کہا، کچھ دوائیں تو اس سے بھی زیادہ طاقتور ہیں۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ اپنی دوائیں روزانہ باقاعدگی سے نہیں لیتے۔تحقیق میں اس تجرباتی علاج کے زیادہ تر مضر اثرات معمولی تھے۔ کچھ لوگوں کو دوا لگنے والی جگہ پر جلن یا تکلیف ہوئی۔ ایک شخص کو کمر کی ڈسک کا مسئلہ ہوا جبکہ دوسرے کے جگر سے متعلق کچھ ٹیسٹ خراب آئے، لیکن یہ مسئلہ دو ہفتوں میں ٹھیک ہوگیا۔تحقیق میں شامل ایک شخص علاج کے چھ ماہ بعد انتقال کر گیا۔ ڈاکٹر نِسن کے مطابق اس شخص کو پہلے ہی دل کی بہت شدید بیماری تھی اور اسے دوا کی سب سے کم خوراک دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا، ہمیں نہیں لگتا کہ اس کی موت کا تحقیق سے کوئی تعلق ہے۔اس کے باوجود سائنس دان اس علاج کے مستقبل کے اثرات پر نظر رکھنا چاہتے ہیں۔ امریکی ادارے ایف ڈی اے کی ہدایت کے مطابق تحقیق میں شامل افراد کو علاج کے بعد 15 سال تک دیکھا جائے گا تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ مستقبل میں کوئی نقصان دہ اثر تو سامنے نہیں آتا۔تحقیق میں ایک اور بات بھی سامنے آئی۔ علاج کے بعد اچھے کولیسٹرول یعنی ایچ ڈی ایل کی مقدار میں تقریبا 20 فیصد کمی ہوئی۔ یہ کمی ایک سال بعد بھی موجود تھی، اس لیے ماہرین مزید تحقیق کے ذریعے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اس کا طویل مدت میں کیا اثر پڑ سکتا ہے۔امریکا اور آسٹریلیا میں اب اس علاج کی ایک نئی تحقیق جاری ہے جس میں تقریبا 40 افراد شامل ہوں گے۔ اس کے بعد مزید بڑے کلینیکل ٹرائلز کیے جائیں گے۔ اگر ان تحقیقات میں بھی نتائج اچھے رہے تو اس علاج کو عام مریضوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت لینے کی کوشش کی جائے گی۔ماہر امراض قلب ڈاکٹر این میری نوار، جو اس تحقیق کا حصہ نہیں تھیں، نے کہا، اگر آپ 20 سال کے ہیں اور آپ کا کولیسٹرول بہت زیادہ ہے تو ایک بار کا علاج زیادہ بہتر ہو سکتا ہے، بجائے اس کے کہ آپ کو اگلے 60 سال روزانہ گولی یا ہر دو ہفتے بعد انجیکشن لینا پڑے۔ان کا کہنا تھا کہ اس علاج کا مستقبل بہت امید افزا ہو سکتا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جنہیں کم عمری سے ہی شدید کولیسٹرول کا مسئلہ ہے۔تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ یہ علاج ابھی عام لوگوں کے لیے دستیاب نہیں۔ اس کے محفوظ اور مثر ہونے کی تصدیق کے لیے مزید بڑی اور طویل تحقیق کی ضرورت ہے۔اگر آنے والے تجربات کامیاب رہے تو مستقبل میں ممکن ہے کہ کچھ مریضوں کو کولیسٹرول کم رکھنے کے لیے زندگی بھر روزانہ دوائیں لینے کے بجائے صرف ایک مرتبہ جینیاتی علاج دیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں