پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ دوستی اب معاشی تعاون اور سرمایہ کاری کی مضبوط شراکت داری میں تبدیل ہو رہی ہے۔ حکومت پاکستان نے واضح کیا ہے کہ چین کے تجربات اور کامیابیوں سے سیکھتے ہوئے سرمایہ کاروں کے نئے مواقع پیدا کرینگے، چین نے مختصر عرصے میں جس طرح اپنی معیشت کو مضبوط بنایا، صنعت’ انفراسٹرکچر اور برآمدات کو فروغ دیا وہ پاکستان کے لیے قابل تقلید مثال ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے گوئی ژو کے شہر گوئی یانگ میں انٹرنیشنل بگ ڈیٹا ایکسپو میں چینی وفد سے ملاقات میں ٹیکنالوجی ٹرانسفر’ لوکل مینوفیکچرنگ کیلئے بزنس اور انویسٹمنٹ کانفرنس کی تجویز پیش کی۔ گوئی ژو کی خوبصورتی’ ترقی اور قابل ذکر تبدیلی متاثر کن ہے۔ چین کی طرح انفراسٹرکچر کی ترقی اور جنگلات یعنی ہریالی لانے کے لیے ہم بھی کوشش کر رہے ہیں۔ گوئی ژو ٹیکنالوجی میں ترقی کر کے چین کا ڈیجیٹل مرکز بن چکا ہے۔ انڈسٹری ڈیجیٹلائزیشن’ رورل ڈویلپمنٹ کے ذریعے لاکھوں لوگوں کو غربت سے نکالنے سے متعلق سیکھنا اور جاننا چاہتے ہیں۔ پاکستان اور چین کی دوستی کو سالڈ پراجیکٹ’ انویسٹمنٹ’ روزگار کے حقیقی فوائد میں بدلنا چاہتے ہیں۔ پاکستان اور چین کے قومی تعلقات کو صوبائی اور عوام سے عوام تک تعلق کی سطح تک لے جایا جا سکتا ہے۔ گوئی ژو کی ٹیم سے ترقی کے سفر میں ساتھ لے کر چلنے کی اپیل کرتے ہیں۔ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے لوگوں کے لیے چین کی معاونت چاہتے ہیں ہم سب چین کے قابل قدر صدر شی جن پنگ کے زبردست مداح ہیں۔ چین کے صدر کا وژن فولادی عزم’ کامیابی کے لیے انتھک جستجو قابل تقلید ہے۔ ذاتی طور پر صدر شی جن پنگ کے مشترکہ خوشحالی’ مشترکہ انسانی اہداف’ سلامتی’ استحکام اور تمام اقوام کی خودمختاری کے فلسفے کی پرجوش حمایتی ہوں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب زرعی شعبے کی سب سے بڑی مارکیٹ’ ملک کا معاشی محور اور فوڈ باسکٹ ہے چین کے صوبے میں محض ترقی نہیں بلکہ مکمل تبدیلی آ رہی ہے۔ ترقی کے ویژن کو حقیقت میں بدلنے کا سہرا چینی صدر شی جن پنگ کی عظیم قیادت کو جاتا ہے۔ پاکستان اور چین اس سال فخر کے ساتھ خوبصورت مثالی تعلقات کی 75ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ پنجاب اور گوئی ژو کے درمیان تعلقات کی مضبوط بنیاد موجود ہے۔ معیشت کا حجم ضرور مختلف ہے لیکن بہت سی خصوصیات مشترک اور مماثل ہیں۔ پنجاب نہ صرف 13 کروڑ آبادی کا صوبہ ہے بلکہ وفاقی اکائیوں سے بھی لوگ بہتر زندگی کے مواقع کی تلاش میں پنجاب آتے ہیں۔ گوئی ژو کی آبادی 3کروڑ 86لاکھ ہے اور پنجاب کو دنیا میں ایک بڑے ملک کے برابر قرار دیا جا سکتا ہے۔ سموگ کے خاتمے کیلئے ہم نے چین کی کامیابی سے سبق سیکھا اور مسلسل سیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان کی زرعی فصلوں کا کل 70فیصد پنجاب میں پیدا ہونے کی وجہ سے زراعت پنجاب کیلئے بہت اہم ہے۔ زراعت کا شعبہ پنجاب کی آبادی کے کثیر حصے کے لیے روزگار اور ذریعہ معاش فراہم کرتا ہے۔ گوئی ژو کے ساتھ روایتی معاشی ماڈل سے آگے بڑھ کر زیادہ پیداوار’ ویلیوایڈڈ’ گڈز ٹیکنالوجی اور نجی شعبے کی شراکت داری کے خواہاں ہیں۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات موجود ہیں تاہم ان سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے پالیسیوں میں تسلسل’ کاروباری ماحول میں بہتری اور سرمایہ کاروں کو سہولتیں فراہم کرنا ضروری ہے۔ چین کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے صنعتی تعاون’ ٹیکنالوجی کی منتقلی’ زراعت’ توانائی اور برآمدات کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ چین کی کامیابی کا بنیادی راز طویل المدتی منصوبہ بندی’ محنت اور مسلسل اصلاحات میں پوشیدہ ہے’ جس سے پاکستان بھی بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ پاکستان اور چین کی شراکت داری دونوں ممالک کے لیے معاشی ترقی کے نئے دروازے کھول سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سرمایہ کاری کے اعلانات کو عملی منصوبوں میں تبدیل کیا جائے اور چینی سرمایہ کاروں کو سازگار اور محفوظ ماحول فراہم کیا جائے۔ اگر پاکستان چین کے کامیاب تجربات کو اپنی ضروریات کے مطابق اپنائے اور معاشی اصلاحات کا عمل جاری رکھے تو ملک ترقی’ روزگار اور برآمدات میں نمایاں بہتری حاصل کر سکتا ہے۔




