فیصل آباد(ایجوکیشن رپورٹر) گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول ٹھیکری والا میں انٹرمیڈیٹ کلاسز کے لیے کروڑوں روپے کی لاگت سے جدید عمارت تو تعمیر کر دی گئی، تاہم تدریسی عملے کی شدید کمی کے باعث انٹرمیڈیٹ کلاسز میں طلبہ کے داخلے انتہائی کم رہ گئے ہیں، جس سے سرکاری وسائل کے موثر استعمال پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول ٹھیکریوالہ میں انٹرمیڈیٹ کی کلاسز کے لیے کروڑوں روپے خرچ کرکے عمارت تعمیر کی گئی، مگر مطلوبہ تعداد میں اساتذہ کی تعیناتی نہ ہونے کے باعث انٹرمیڈیٹ سطح پر تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ اساتذہ کی کمی کے باعث والدین اور طلبہ سرکاری ادارے میں انٹرمیڈیٹ تعلیم کے حصول سے گریزاں ہیں، جس کے نتیجے میں نئی تعمیر شدہ عمارت اور دستیاب سہولیات کا بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی کمی دور کرنے کے لیے مختلف ادوار میں متعدد پالیسیوں میں تبدیلیاں کی گئیں، تاہم زمینی حقائق اور مقامی تعلیمی ضروریات کو مدنظر نہ رکھنے کے باعث مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ پالیسی سازی کے وقت صرف مالی بچت کو مدنظر رکھنے کے بجائے طلبہ کے تعلیمی مستقبل، اداروں کی ضروریات اور اساتذہ کی دستیابی کو بھی ترجیح دی جانی چاہیے۔ایجوکیشن رائٹس کمیشن پاکستان کے چیئرمین محمد اسلم بٹ، حافظ نجف، مرزا ذوالفقار، طارق سندھو، حافظ رضوان اور ٹیچرز رہنما رانا نصیر احمد خاں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات سے مطالبہ کیا ہے کہ گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول ٹھیکریوالہ سمیت سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی کمی فوری طور پر پوری کی جائے تاکہ کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی عمارتوں اور تعلیمی سہولیات سے طلبہ بھرپور استفادہ کر سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اساتذہ کی کمی دور کیے بغیر صرف نئی عمارتیں تعمیر کرنے سے تعلیمی معیار میں بہتری ممکن نہیں، حکومت کو اپنی تعلیمی پالیسیوں کا زمینی حقائق کی روشنی میں ازسرنو جائزہ لینا ہوگا تاکہ سرکاری اسکولوں میں طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔




