پولیس چھاپہ کے دوران کانسٹیبل کی شہادت کا معاملہ نیا رخ اختیار کرگیا

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) تھانہ ٹھیکریوالہ کے علاقہ میں پولیس چھاپہ کے دوران کانسٹیبل کے سر میں گولی لگنے کا معاملہ نیا رخ اختیار کر گیا’ نکے تھانیدار (چوکی انچارج پینسرہ رانا کاشف)نے زیر حراست ملزمان کے لوڈ پسٹل کو ایک ملزم کے سر پر مارا جس سے اچانک گولی چل گئی جو وہاں پر موجودکانسٹیبل رانا ابرار کے سر میں جا لگی جو موقع پر ہی چل بسا’مذکورہ چوکی انچارج کوموقع سے حراست میں لے لیا گیا تاہم بعد میں پولیس افسران نے مذکورہ کانسٹیبل کی موت کو ”شہادت میں”بدلنے کے لئے وقوعہ کا رنگ بدل دیا اور ان ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا’زیر حراست چوکی انچارج راناکاشف کو بھی چھوڑ دیا، تفصیلات کے مطابق ایس ایچ او تھانہ ٹھیکریوالہ طاہر بشیر نے گزشتہ صبح اپنی ٹیم کے ہمراہ 73 ج ب جھپال دربار بابا عجوبہ کے قریب خاتون کو فائرنگ کر کے زخمی کرنیوالے ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپہ مارا، جہاں پر پولیس نے چار ملزمان بلال’ حنان’ زبیر اور حماد کو پکڑ لیا’ وہاں پر موجود چوکی انچارج پینسرہ رانا کاشف نے ایک ملزم کا لوڈ پسٹل پکڑ کر طیش میں آتے ہوئے دوسرے ملزم کے سر پر مارا چونکہ پسٹل لوڈ تھا اس میں سے گولی چل گئی جو قریب موجود کانسٹیبل رانا ابرار کے سر میں جالگی اور وہ موقع پر ہی زندگی کی بازی ہار گیا۔ ایس ایچ او ٹھیکریوالہ نے مذکورہ چوکی انچارج کو حراست میں لے لیا، تاہم بعد میں پولیس افسران نے کانسٹیبل رانا ابرار احمد کی موت کو شہادت میں بدلنے کیلئے وقوعہ کا رنگ تبدیل کروا دیا اور گرفتار ہونیوالے ملزمان کے ساتھ اسے پولیس مقابلہ کا رنگ دیتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا گیا۔ واضح رہے کہ جاں بحق ہونے والا کانسٹیبل 2بہنوں کا اکلوتا بھائی اور 2 کم سن بیٹیوں کا باپ تھا۔ یہاں پر یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ مذکورہ کانسٹیبل کی پولیس لائن میں نمازجنازہ ادا کی گئی جس میں ڈویژنل کمشنر عمران حامد شیخ’ سی پی او فیصل آباد تنویر حسین سمیت تمام پولیس افسران نے شرکت کی، بعدازاں متوفی کانسٹیبلان کی اس کے آبائی گائوں میں بھی نمازجنازہ ادا کی گئی اور اسے سپردخاک کر دیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں