فیصل آباد(سٹاف رپورٹر) زہریلا کھانا کھانے سے 13سالہ لڑکا جاں بحق، زہریلی گولیاں کھا کر دوشیزہ نے خود کشی کر لی’ سزائے موت کا قیدی زندگی کی قید سے آزاد ہو گیا، انسانی جانوں سے کھیلنے والے دو عطائی ڈاکٹر گرفتار، 4شہریوں کے ساتھ ڈیڑھ کروڑ کا فراڈ، پولیس مصروف تفتیش ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ عبداللہ پور کے رہائشی فاروق کی 45سالہ اہلیہ روبینہ، 17سالہ بیٹی خوشبو اور13سالہ بیٹے سلطان نے گذشتہ شب مبینہ طور پر زہریلا کھانا کھایا، حالت غیر ہونے پر ہسپتال لایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کا معدہ واش کر کے جان بچانے کی سر توڑ کوشش کی تاہم دوران علاج 13سالہ لڑکا سلطان ولد فاروق زندگی کی بازی ہار گیا، ہسپتال انتظامیہ نے ضروری کارروائی کے بعد نعش ورثاء کے حوالے کر دی، ماں بیٹی کو ڈسچارج کر دیا گیا، جبکہ گھریلو حالات سے دلبرداشتہ ہو کر444گ ب کی 16سالہ لڑکی شانزہ دختر مرتضیٰ نے گندم میں رکھنے والی گولیاں نگل لیں جسے تشویشناک حالت میں ہسپتال لایا گیا جہاں دوران علاج دم توڑ گئی، سنٹرل جیل میں بند سزائے موت کا قیدی رمضان ولد محمد علی کو بیمار ہونے پر ہسپتال لایا جا رہا تھا کہ وہ راستے میں ہی چل بسا، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر صوبیہ جمیل نے عطائی ڈاکٹروں کیخلاف کریک ڈائون کرتے ہوئے279گ ب میں چھاپہ مار کر عطائی ڈاکٹر حسین اور277گ ب میں عطائی سرجن حق نواز کو پکڑ لیا جو کہ انسانی جانوں سے کھیل رہے تھے اور ان کے کلینک کو سیل کر کے متعلقہ تھانوں میں مقدمہ درج کروا دیا ۔ علاوہ ازیںعلاوہ ازیں سرکلر روڈ کے عثمان نے پولیس رپورٹ میں بتایا کہ کاروبار کا جھانسہ دیکر اس کے جاننے والے ملزم غلام مصطفی نے 50لاکھ’ سول لائن پولیس کو درخواست گزارنے والے منور حسین نے بتایا کہ ملزم احمد عثمان نے ساڑھے 24لاکھ’ منصورآباد کے عرفان سے ملزم مہتاب نے 40لاکھ کا سکریپ خرید کر بدلے میں جعلی چیک تھما دیا، منصورآباد کے شاہد اقبال کو مکان خریدنے کا جھانسہ دیکر چالاک ملزم 30لاکھ کی رقم لیکر رفوچکر ہو گیا، پولیس نے کارروائی عمل میں لاتے ہوئے تفتیش شروع کر دی۔




