دہی کے حیرت انگیز فوائد

لاہور (بیوروچیف) دہی دودھ کی مصنوعات میں سے ایک ہے جسے دودھ کو خمیر بنا کر تیار کیا جاتا ہے۔ خوراک میں دہی کا استعمال انسان کے لیے صحت بخش ہے۔ ہاضمے کو بہتر ، قوت مدافعت میں اضافہ کرتا ہے، ہڈیاں مضبوط کرتا اور جلد کو بھی تر و تازہ رکھتا ہیروزانہ دوپہر کے کھانے میں ایک پیالہ دہی کا استعمال حفظان صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہو سکتا ہے۔دہی میں موجود پروبائیوٹکس اینٹی باڈیز کی پیداوار کو فروغ دینے اور مدافعتی خلیوں کی سرگرمی کو بڑھا کر جسم کے مدافعتی ردعمل کو بڑھانے میں اہم کرادر ادا کرتے ہیں۔ایک مضبوط مدافعتی نظام جسم کو انفیکشن اور بیماریوں سے زیادہ مثر طریقے سے لڑنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔دہی میں پروبائیوٹکس پائے جاتے ہیں جو فائدہ مند بیکٹیریاز ہیں اور یہ صحت مند آنتوں کے مائکرو بایوم کو برقرار رکھنے میں مدد کرتے ہیں۔گٹ مائکرو بایوم کی وجہ سے معدہ ہاضمے کے عمل کے دوران غذائی اجزا کو جذب کرنے اور معدے کے امراض کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔دہی میں کیلشیم اور فاسفورس پایا جاتا ہے جس کا استعمال ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط بناتا ہے۔ دانتوں اور ہڈیوں کی صحت کے لیے ضروری کیلشیم اور فاسفورس کا باقاعدہ استعمال ہڈیوں کی کثافت کو برقرار رکھنے اور آسٹیوپوروسس جیسی بیماریوں کو روکنے میں مدد کرتا ہے۔دہی میں پروٹین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے کیلوریز کی مجموعی مقدار کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔یہ بھوک کے بعد دوبارہ بھوک محسوس ہونے والی کیفیت کو کم کرنے اور زیادہ کھانے کی عادت کو کم کر کے وزن کو کنٹرول کرنے میں مدد کرسکتا ہے۔دہی میں ایسے فیٹس کی مقدار پائی جاتی ہے جو کولیسٹرول کی سطح کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔دہی کا باقاعدگی سے استعمال بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح کو منظم کر کے دل کی بیماریوں کا خطرہ کم کر دیتا ہے۔دہی میں ایسے پروٹین، وٹامن اور دوسرے ایسے مادے پائے جاتے ہیں جو صحت مند بالوں کے لیے مفید ہوتے ہیں۔ دہی کا باقاعدگی سے استعمال جہاں بالوں کی پیداوار کو بڑھاتا ہے وہیں بالوں کے گرنے میں کمی لاتا ہے اور بالعموم بالوں کی صحت کو بہتر بناتا ہے۔جسم کو پانی کی ضرورت سے بھرپور رکھتا ہے۔دہی میں پایا جانے والا لاسٹک ایسڈ جلد کے لیے ایک قدرتی ایکس فولینٹ(جلد سے مرے ہوئے خلیوں کو ہٹانے کا عمل) اور موئسچرائزر کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ جلد کے مردہ خلیوں کے ہٹنے کے عمل کو فروغ دیتا ہے، نمی کو برقرار رکھتا ہے اور جلد کو ہائیڈریٹڈ کرتے ہوئے اس کی تازگی کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔دہی میں موجود پروٹین اور فیٹس کاربوہائیڈریٹس کے ہضم ہونے کے عمل کو سست کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے خون میں شوگر کا اخراج آرام سے ہوتا ہے۔اس سے خون میں شوگر کی سطح میں اضافے کو روکنے میں مدد ملتی ہے اور یہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔دہی میں موجود پروبائیوٹکس دماغ اور معدے کے تعلق کو متاثر کر سکتے ہیں۔دہی کا استعمال صحت مند دماغ اور معدے کے تعلق کو فروغ دے کر تنا اور اضطراب کی علامات کو کم کرنے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔دہی میں پانی کی مقدار زیادہ پائی جاتی ہے جو جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔جسمانی افعال کو برقرار رکھنے، جسم کے درجہ حرارت کو منظم کرنے اور پانی کی کمی کو روکنے کے لیے مناسب ہائیڈریشن ضروری ہوتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں