مائیکرو اور نینو پلاسٹک سے ہارٹ اٹیک کا انکشاف

روم /نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) حال ہی میں منظر عام پر آنے والی ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ فعال اور شدید ہارٹ اٹیک کا سامنا کرنے والے تقریبا 84 فیصد مریضوں کے خون میں مائیکرو اور نینو پلاسٹک کے ذرات موجود ہوتے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے پلاسٹک اور ہارٹ اٹیک کے درمیان براہِ راست سبب ثابت نہیں ہوتا۔اٹلی کے محققین نے انجیوگرام کروانے والے 61 مریضوں کی کورونری شریانوں سے خون کے نمونے حاصل کرکے ان میں مائیکرو اور نینو پلاسٹک کے ذرات کا جائزہ لیا۔ تحقیق کے دوران فعال اور شدید ہارٹ اٹیک کے شکار تقریبا 84 فیصد مریضوں کے خون میں پلاسٹک کے ذرات پائے گئے، جبکہ دائمی دل کے مرض میں مبتلا 40 فیصد اور صحت مند کورونری شریانوں والے 32 فیصد افراد میں بھی یہ ذرات موجود تھے۔یونیورسٹی آف کیمپانیا لوئیجی وان ویٹیلی کے ڈاکٹر رافیلے مارفیلا کی سربراہی میں ہونے والی یہ تحقیق یورپین ہارٹ جرنل میں شائع ہوئی۔ جن مریضوں میں پلاسٹک کے ذرات پائے گئے، ان میں 97 فیصد کے خون میں پولی ایتھلین موجود تھا، جو عام طور پر پلاسٹک کی تھیلیوں اور بوتلوں کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ نتائج مائیکرو اور نینو پلاسٹکس اور امراضِ قلب کے ممکنہ تعلق سے متعلق سامنے آنے والی سابقہ تحقیقات سے مطابقت رکھتے ہیں، تاہم تحقیق میں اس بات کا ثبوت نہیں ملا کہ پلاسٹک کے ذرات براہِ راست ہارٹ اٹیک کا سبب بنتے ہیں۔نیویارک میں مقیم ماہر غذائیت مشیل روتھن اسٹائن نے کہا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے صرف تعلق ظاہر ہوتا ہے، سبب اور نتیجے کا حتمی تعین نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے علاوہ تحقیق میں مریضوں کی تعداد کم تھی اور تمام افراد کا تعلق ایک ہی ملک سے تھا۔تحقیق میں سگریٹ نوشی خون میں پلاسٹک کے ذرات کی موجودگی کا سب سے مضبوط پیش گو عنصر سامنے آئی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سگریٹ نوشی اور فضائی آلودگی دونوں دل کے امراض اور پلاسٹک سے ممکنہ ایکسپوژر سے منسلک ہیں، اس لیے مائیکرو پلاسٹکس کے آزادانہ اثرات کا تعین مشکل ہے۔ماہرین نے روزمرہ زندگی میں پلاسٹک سے ممکنہ ایکسپوژر کم کرنے کے لیے پلاسٹک کے بجائے شیشے یا سیرامک کے برتن استعمال کرنے، کھانا پلاسٹک کے برتنوں میں گرم نہ کرنے اور گرم پانی یا مشروبات کے لیے پلاسٹک کی بوتلوں سے حتی الامکان گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں