سستی توانائی فراہمی کیلئے قابل تحسین حکومتی اقدامات (اداریہ)

توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت ملکی معیشت اور عوام دونوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ بجلی اور دیگر توانائی کے نرخوں میں اضافہ نہ صرف گھریلو صارفین کے ماہانہ بجٹ کو متاثر کرتا ہے بلکہ صنعت’ زراعت اور کاروباری سرگرمیوں کی پیداواری لاگت بھی بڑھا دیتا ہے۔ اس صورتحال میں توانائی کی لاگت سے کمی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہونا وقت کی ضرورت ہے۔ سستی اور قابل اعتماد توانائی کی فراہمی ہی صنعتی پہیہ تیز’ برآمدات میں اضافہ اور معاشی ترقی کی رفتار بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے برآمدکنندگان کیلئے سپرٹیکس سے استثنیٰ میں توسیع کے معاملے کا جائزہ لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ برآمدات پر مبنی معاشی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے، کاروبار کو آسان بنانے کیلئے مؤثر اقدامات کر رہے ہیں، توانائی کی لاگت میں کمی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔ مشکل حالات کے باوجود مشاورت سے بنیادی اصلاحات کی گئیں۔ ایف بی آر نے انفورسمنٹ کے ذریعے ایک سال میں 800 ارب ریکور کیے، حکومت کی معاشی ٹیم کی کوششوں کی بدولت ملک کے میکرواکنامک حالات میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے تاہم مائیکرو اکنامک سطح پر بہتری لانے کیلئے ہمیں مزید محنت کرنی ہے تاکہ معاشی بہتری کے ثمرات عوام تک پہنچ سکیں۔ وزیراعظم نے برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کے فروغ کے لیے کاروباری برادری کی تجاویز کا خیرمقدم کیا، حکومت کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور کاروبار کو آسان بنانے کیلئے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ توانائی کی لاگت میں کمی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے ذریعے سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کو ایک آسان اور سہل پلیٹ فورم مہیا کیا گیا ہے جہاں ون ونڈو آپریشن کے تحت سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ کاروباری شعبے پر غیر ضروری ریگولیٹری بوجھ کم کرنے کیلئے ریگولیٹری’ گلوٹین پر کام جاری ہے۔ اس اقدامات کا مقصد قواعد وضوابط کو آسان بنانا، کمپلائنس لاگت کم کرنا اور کاروباری سرگرمیوں کو مزید سہل بنانا ہے۔ فیڈرل بورڈ ریونیو کی ڈیجیٹائزیشن کے حوالے سے ایک بڑا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ ایف بی آر نے انفورسمنٹ کے ذریعے گزشتہ مالی سال میں 800 ارب روپے اکٹھے کئے۔ حکومت صنعت کی ضروریات کے مطابق افرادی قوت کی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دے رہی ہے تاکہ نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہنرمند افراد فراہم کیے جا سکیں۔ وزیراعظم نے کاروباری برادری کو درپیش مسائل کے فوری اور دیرپا حل کیلئے فوری اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔ توانائی کی بلاقیمتوں کا سب سے زیادہ اثر صنعتی اور کاروباری شعبے پر پڑتا ہے، کیونکہ پیداواری لاگت میں اضافے سے ملکی مصنوعات عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل نہیں رہتیں۔ حکومت کو چاہیے کہ سستی بجلی کی فراہمی کے قابل تجدید توانائی’ خصوصاً شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کو فروغ دے، جبکہ بجلی کی ترسیل کے دوران ہونیوالے نقصانات اور غیر ضروری اخراجات پر قابو پایا جائے۔ اس کے ساتھ توانائی کے شعبے میں شفافیت اور مؤثر انتظامی اصلاحات بھی ضروری ہیں تاکہ صارفین کو حقیقی معنوں میں ریلیف مل سکے۔ حکومت کو توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا عمل تیز کرتے ہوئے بجلی کی پیداوار’ ترسیل اور تقسیم کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنا ہو گا۔ مقامی اور متبادل توانائی کے ذرائع کو فروغ دینے’ لائن لاسز کم کرنے اور توانائی کے ضیاع پر قابو پانے سے لاگت میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ توانائی سستی ہو گی تو صنعت کا پہیہ تیزی سے چلے گا، روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور عام آدمی کو بھی ریلیف ملے گا۔ اس لیے توانائی لاگت میں کمی محض ایک معاشی اقدام نہیں بلکہ ملکی ترقی اور عوامی خوشحالی کی بنیادی ترجیح سمجھا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں حکومتی کوششیں قابل تحسین ہیں اور ان پر مکمل عملدرآمد ہونا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں