واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں معمولی اضافہ دیکھا گیا، جس کی بڑی وجہ امریکی ڈالر کی قدر میں کمی اور سرمایہ کاروں کی جانب سے اہم امریکی افراطِ زر کے اعداد و شمار کا انتظار ہے، یہ اعداد و شمار امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرحِ سود کی پالیسی پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔رائٹرز کے مطابق، اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 4,410.28 ڈالر فی اونس رہی، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز برائے دسمبر 0.1 فیصد کمی کے بعد 4,457.20 ڈالر فی اونس پر آ گئے۔میریکس کے تجزیہ کار ایڈورڈ میئر کے مطابق فی الحال خلیج فارس میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی سونے کے لیے ثانوی اہمیت رکھتی ہے، جبکہ کمزور ڈالر سونے کی قیمت کو سہارا دے رہا ہے۔ ان کے بقول امریکی شرحِ سود میں اضافے کے باوجود ڈالر کی قدر میں نمایاں بہتری نہیں آ رہی۔امریکی ڈالر کی قدر بدستور دبا میں رہی، جس کے باعث دیگر کرنسیوں کے حامل خریداروں کے لیے ڈالر میں قیمت والے دھاتیں نسبتا سستی ہو گئیں۔امریکی پروڈیوسر پرائس انڈیکس (PPI) کے اعداد و شمار جمعرات کو جبکہ صارفین کی افراطِ زر (CPI) کے اعداد و شمار جمعہ کو جاری کیے جائیں گے۔ مارکیٹ ان اعداد و شمار کو امریکی مرکزی بینک کی آئندہ مالیاتی پالیسی کے حوالے سے اہم سمجھ رہی ہے۔رائٹرز کے ایک حالیہ ماہرینِ اقتصادیات کے سروے میں اکثریت نے توقع ظاہر کی ہے کہ فیڈرل ریزرو 15 اور 16 ستمبر کے اجلاس میں شرحِ سود موجودہ سطح پر برقرار رکھے گا اور رواں سال کے باقی عرصے میں بھی شرح میں اضافہ نہیں کرے گا۔اے این زیڈ کے سینئر کموڈیٹیز اسٹریٹجسٹ ڈینیئل ہائنز نے کہا کہ امریکی مالیاتی دبا میں اضافہ بھی سونے کو سہارا دے رہا ہے، کیونکہ اس سے حکومتی قرضوں اور امریکی کرنسی کی طویل مدتی قدر پر سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہو رہا ہے۔گزشتہ ماہ امریکی حکومت کا مجموعی قرض پہلی بار 40 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گیا تھا، جس کے بعد مالیاتی بحران کے خدشات ایک مرتبہ پھر سامنے آئے ہیں۔دیگر قیمتی دھاتوں میں اسپاٹ سلور کی قیمت 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 67.50 ڈالر فی اونس رہی، پلاٹینم 0.4 فیصد کمی کے بعد 1,888.05 ڈالر جبکہ پیلاڈیم 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 1,356.20 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا۔




