پرائیویٹ کالجز کی بورڈ داخلہ فیس کے نام پر کروڑوں روپے کی لوٹ مار

فیصل آباد (ایجوکیشن رپورٹر) پنجاب بھر میں میٹرک امتحان 2026 میں کامیاب ہونے والے 9لاکھ 26ہزار 569طلبہ و طالبات کے مستقبل کے ساتھ ساتھ ان کے والدین کی جیب پر بھی نجی کالجز کی مبینہ زائد فیسوں کا بوجھ ڈال دیا گیا بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فیصل آباد میں گیارہویںجماعت کے داخلے کی فیس تقریبا 2100 روپے مقرر ہے جبکہ بعض نجی کالجز کی جانب سے داخلے کے نام پر 3500 روپے تک وصول کئے جانے کا انکشاف، محکمہ ہائر ایجوکیشن کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن گیا۔پنجاب کے تعلیمی بورڈز کے تحت 2026 کے میٹرک امتحانات میں مجموعی طور پر 13 لاکھ 48 ہزار 352 امیدواروں نے شرکت کی، جن میں سے 9 لاکھ 26 ہزار 569 کامیاب اور 4 لاکھ 21 ہزار 783 ناکام ہوئے، جبکہ کامیابی کا مجموعی تناسب 68.72 فیصد رہا۔ میٹرک کے بعد ہر سال کامیاب طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعداد گیارہویں جماعت میں داخلے کے لیے نجی کالجز کا رخ کرتی ہے، جس کے نتیجے میں نجی تعلیمی اداروں کو داخلہ فیسوں اور دیگر چارجز کی مد میں کروڑوں روپے حاصل ہوتے ہیں۔ذرائع کے مطابق فیصل آباد بورڈ کے تحت گیارہویں جماعت کے داخلے کے لیے مقررہ فیس اور بعض نجی کالجز کی جانب سے وصول کی جانے والی رقم میں واضح فرق پایا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر بورڈ کی مقررہ فیس تقریبا 2100 روپے ہے تو پھر بعض نجی کالجز طلبہ سے 3500 روپے تک کیوں وصول کر رہے ہیں؟ اس اضافی رقم کی بنیاد کیا ہے اور اس کا حساب کون لے گا؟والدین کا کہنا ہے کہ مہنگائی، بجلی اور گیس کے بھاری بلوں، اشیائے خورونوش کی بڑھتی قیمتوں اور روزمرہ اخراجات کے باعث پہلے ہی سفید پوش طبقہ مشکلات کا شکار ہے، ایسے میں بچوں کے تعلیمی داخلے کو بھی اضافی مالی بوجھ بنا دینا والدین کے لیے ناقابل برداشت صورتحال پیدا کر رہا ہے۔سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں فیسوں کا تعین کرنے اور ان کی نگرانی کرنے والا نظام کہاں ہے؟ اگر کسی نجی کالج کو مقررہ فیس سے زیادہ رقم وصول کرنے کی اجازت نہیں تو پھر کھلے عام اضافی رقم وصول کرنے کی شکایات پر کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی؟ اور اگر اضافی فیس کسی منظور شدہ مد کے تحت وصول کی جا رہی ہے تو والدین کو اس کی مکمل تفصیل کیوں فراہم نہیں کی جاتی؟وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کی جانب سے مختلف سرکاری محکموں میں کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف سخت اقدامات کئے جا رہے ہیں، مگر والدین کا سوال ہے کہ تعلیم کے شعبے میں 11ویں کلاس میں داخلے کے نام پر ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں کا احتساب کب ہوگا؟ سرکاری محکموں میں ایک ایک روپے کی کرپشن کا نوٹس لینے کی پالیسی قابلِ تحسین ہے، لیکن نجی تعلیمی اداروں میں لاکھوں والدین سے اضافی رقم وصول کئے جانے کی شکایات کو بھی اسی سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔اگر صرف ایک طالب علم سے 1400 روپے اضافی وصول کئے جائیں اور ایسے طلبہ کی تعداد لاکھوں میں ہو تو مجموعی رقم کروڑوں،اربوں روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاملہ صرف چند سو یا ایک دو ہزار روپے کا نہیں بلکہ لاکھوں خاندانوں کی جیب سے نکلنے والی مجموعی رقم اور تعلیم کے شفاف نظام کا ہے۔والدین نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز اور صوبائی وزیر تعلیم راو سکندر سے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب اور متعلقہ حکام فوری طور پر نجی کالجز کی فیس انسپکشن مہم شروع کریں، ہر تعلیمی بورڈ کی منظور شدہ داخلہ فیس کو عوام کے سامنے لایا جائے، داخلہ فیس کے نام پر اضافی چارجز اور مقررہ حد سے زائد فیس وصول کرنے والے اداروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔والدین کا کہنا ہے کہ حکومت اگر واقعی تعلیم کو عام آدمی کی پہنچ میں رکھنا چاہتی ہے تو اسے صرف سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی ہی نہیں بلکہ نجی تعلیمی اداروں کی داخلہ فیس چارجز کے مالی معاملات کی بھی سخت نگرانی کرنا ہوگی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ نجی کالجز کی فیسوں کا فوری فرانزک آڈٹ کرایا جائے، گزشتہ چند سال کے دوران وصول کی جانے والی فیسوں کا ریکارڈ چیک کیا جائے اور جہاں بھی غیر قانونی یا غیر ضروری وصولیاں ثابت ہوں وہاں والدین کو ریلیف دیتے ہوئے ذمہ دار اداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔والدین نے واضح کیا کہ حکومت کو اس معاملے پر فوری ایکشن لیتے ہوئے ایسا شفاف نظام وضع کرنا چاہیے جس میں نہ والدین کو داخلے کے وقت اضافی فیسوں کے نام پر پریشان کیا جائے اور نہ ہی نجی تعلیمی اداروں کو قواعد و ضوابط سے بالاتر سمجھا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں