اسلام آباد(بیوروچیف) متعلقہ حکام کے ساتھ پس پردہ ہونے والی بات چیت سے معلوم ہوا ہے کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام پر جاری بحث دراصل 18ویں آئینی ترمیم کے تحت اختیارات کی نامکمل منتقلی کا نتیجہ ہے۔ یہ موقف سامنے آیا ہے کہ محض صوبائی دارالحکومتوں سے بڑی آبادیوں کا انتظام چلانے سے طرزِ حکمرانی اور عوامی خدمات کی فراہمی میں خاطر خواہ بہتری نہیں لائی جا سکتی۔ ان معاملات سے واقف حکام کے مطابق 18ویں ترمیم کے ذریعے وفاق سے صوبوں کو خاطر خواہ اختیارات منتقل کیے گئے، تاہم اس کے بعد اختیارات کی منتقلی کا عمل ضلعی اور مقامی حکومتوں کی سطح تک نہیں پہنچ سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ عملاً وفاق سے منتقل کیے گئے اختیارات بڑی حد تک صوبائی سطح پر ہی مرکوز رہے، بجائے اس کے کہ انہیں ان مالی اور انتظامی اختیارات کے ساتھ منتخب بلدیاتی حکومتوں کو بھی منتقل کیا جاتا اور یہ ان اختیارات کو استعمال کرنے کیلئے ضروری اقدام تھا۔ حکام کا موقف ہے کہ اس صورتحال کے نتیجے میں فیصلہ سازی چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں مرکزیت اختیار کرگئی ہے، جس کے باعث وسیع رقبے اور مسلسل بڑھتی آبادی والے صوبوں میں موثر حکمرانی اور عوامی خدمات کی موثر فراہمی یقینی بنانا مشکل ہوگیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات مکمل طور پر نچلی سطح تک منتقل کردیے گئے ہوتے تو طرزِ حکمرانی کے بہت سے وہ مسائل، جنہیں اب موجودہ صوبائی ڈھانچے کی تنظیم نو کے حق میں دلیل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، اضافی صوبے بنائے بغیر بھی حل کیے جا سکتے تھے۔ اس معاملے کی نشاندہی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال بھی کر چکے ہیں، جنہوں نے حال ہی میں کہا تھا کہ گزشتہ 15 برس کے دوران اختیارات کی منتقلی کے فوائد نچلی سطح تک نہیں پہنچ سکے۔ انہوں نے 18ویں ترمیم کے بعد اضلاع کو مزید اختیارات اور وسائل منتقل کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ نئے صوبوں سے متعلق اپنے بیان کی ایک سابقہ وضاحت میں احسن اقبال نے کہا تھا کہ 18ویں ترمیم کے بعد اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک منتقل نہ ہونا، اور صوبائی سطح پر اختیارات کا ارتکاز، سماجی شعبے کی ناقص کارکردگی کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ پس پردہ ہونے والی بات چیت میں اس معاملے کی وضاحت یوں کی گئی کہ اختیارات کی منتقلی کا مطلب محض اسلام آباد سے صوبائی دارالحکومتوں کو اختیارات منتقل کرنا نہیں ہو سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ نظام سے بہتر نتائج حاصل کرنے کیلئے بالآخر اختیار، مالی وسائل اور ذمہ داری ضلعی اور مقامی حکومتوں کی سطح تک پہنچانا ہوگی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ آئین خود حکمرانی کی ایسی تیسری سطح کا تصور پیش کرتا ہے۔ آرٹیکل 140-A صوبوں کو مقامی حکومتوں کا نظام قائم کرنے اور سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داری و اختیار منتخب مقامی حکومتوں کے نمائندوں کو منتقل کرنے کا پابند کرتا ہے۔ تاہم، ذرائع کے مطابق صوبائی حکومتیں نمایاں انتظامی اور مالی اختیارات مقامی حکومتوں کو منتقل کرنے سے گریزاں رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نتیجتاً اختیارات کی منتقلی کا عمل عملا صوبائی دارالحکومتوں ہی پر رک گیا۔ اس معاملے کا ایک سیاسی پہلو بھی ہے۔ پس منظر میں کیے گئے جائزے کے مطابق قومی اور صوبائی دونوں سطحوں کے منتخب نمائندوں کو بااختیار مقامی حکومتوں کی مضبوط سطح کے حوالے سے تحفظات ہیں، کیونکہ بااختیار میئرز اور ضلعی حکومتیں مقامی ترقی اور عوامی وسائل پر ارکانِ پارلیمنٹ اور صوبائی حکومتوں کے موجودہ سیاسی و انتظامی اثر و رسوخ کو متاثر کر سکتی ہیں۔ حکام کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومتوں کی جانب سے باقاعدگی سے اور بامعنی بلدیاتی حکومتوں کے انتخابات نہ کرانے، اور اس کے بعد منتخب مقامی اداروں کو محدود اختیارات اور وسائل دستیاب ہونے نے حکمرانی کی تیسری سطح کو مزید کمزور کردیا ہے۔ ان کا موقف تھا کہ بااختیار بلدیاتی حکومتوں کی عدم موجودگی کے نتیجے میں صوبائی انتظامیہ اپنے اپنے دارالحکومتوں سے مقامی نوعیت کے بے شمار معاملات چلانے کی کوشش کر رہی ہے۔




