واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) مصنوعی ذہانت (اے آئی) اب بچوں اور نوجوانوں کی روزمرہ زندگی، تعلیم اور معلومات تک رسائی کا بھی حصہ بنتی جا رہی ہے۔ اس کے بڑھتے استعمال کے ساتھ یہ سوال اہم ہوتا جا رہا ہے کہ نئی ٹیکنالوجی بچوں کے لیے کتنی محفوظ ہے اور اگر خطرات پیدا ہوں تو ان سے نمٹنے کی ذمہ داری کس کی ہوگی۔ اسی بحث کے درمیان گوگل کے سابق سیفٹی سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی بچوں کے لیے سوشل میڈیا سے بھی زیادہ سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہے۔گوگل میں ٹرسٹ اینڈ سیفٹی ٹیم کے بانی اور سابق نائب صدر ٹام سیگل نے اے آئی کی ترقی کی رفتار میں کمی لانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی کی صنعت بچوں کے تحفظ کے معاملے میں وہی غلطیاں دہرا رہی ہے جو سوشل میڈیا کے دور میں کی گئی تھیں۔سیگل نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ بچوں پر اے آئی کے ممکنہ اثرات انتہائی تشویش ناک ہیں اور یہ توقع کرنا حقیقت پسندانہ نہیں کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں خود ہی ان مسائل کو مکمل طور پر حل کر لیں گی۔ ان کے مطابق اے آئی کے استعمال میں بچوں کی حفاظت کے لیے بیرونی ماہرین، آزاد اداروں اور مناسب نگرانی کی ضرورت ہے۔یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوشل میڈیا کمپنیوں کو بچوں اور نوجوانوں پر ان کے مبینہ منفی اثرات کے باعث دنیا کے مختلف حصوں میں قانونی کارروائیوں اور حکومتی دبا کا سامنا ہے۔ کئی حکومتیں کم عمر افراد کی سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے کے لیے اقدامات بھی کر رہی ہیں۔سیگل کے مطابق اے آئی کے معاملے میں بھی اگر حفاظتی اقدامات بروقت نہ کیے گئے تو مستقبل میں بچوں کو ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جن سے نمٹنا زیادہ مشکل ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ اے آئی کمپنیوں کی جانب سے خود ہی تمام حفاظتی مسائل حل کرنے کی توقع کافی نہیں۔رائٹرز کے مطابق گزشتہ سال میٹا کی ایک داخلی پالیسی دستاویز سامنے آئی تھی جس میں اے آئی چیٹ بوٹس کے بچوں کے ساتھ رومانوی یا جنسی نوعیت کی گفتگو میں شامل ہونے سے متعلق رہنما اصول موجود تھے۔ اس انکشاف کے بعد امریکی کانگریس میں بھی تحقیقات شروع ہوئیں۔ تاہم اے آئی کی ترقی کی رفتار کے مقابلے میں اس شعبے کے لیے قوانین اور ضابطہ کاری ابھی پوری طرح ہم آہنگ نہیں ہو سکے۔سیگل نے رواں ہفتے بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے کامن سینس میڈیا میں شمولیت اختیار کی ہے۔ اس ادارے نے رواں سال مئی میں یوتھ اے آئی سیفٹی انسٹی ٹیوٹ قائم کیا تھا، جہاں سیگل فرسٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔اس ادارے کا مقصد بچوں اور نوجوانوں کے اے آئی استعمال کا جائزہ لینا، تحقیق کرنا اور ایسے حفاظتی معیارات تیار کرنا ہے جن کی بنیاد پر اے آئی کمپنیوں کی خدمات کو پرکھا جا سکے۔ اینتھروپک اور اوپن اے آئی فانڈیشن اس ادارے کے معاونین میں شامل ہیں۔سیگل کا کہنا ہے کہ وہ ایسے معیارات تیار کرنا چاہتے ہیں جن کے ذریعے یہ جانچا جا سکے کہ عوامی سطح پر دستیاب اے آئی ٹولز بچوں کے لیے کتنے محفوظ ہیں۔ ان کے مطابق یہ کام اے آئی کمپنیوں اور آزاد اداروں کے تعاون سے کیا جانا چاہیے، اگرچہ اس تعاون کی سطح کے بارے میں یقین سے کچھ کہنا ممکن نہیں۔انہوں نے بچوں کے لیے اے آئی سے پیدا ہونے والے کئی ممکنہ خطرات کا ذکر کیا، جن میں خودکشی سے متعلق مواد، شدید نفسیاتی مسائل اور سوچنے کی صلاحیت پر ممکنہ اثرات شامل ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر کگنیٹو آف لوڈنگ کی اصطلاح استعمال کی، جس سے مراد ایسی صورتحال ہے جس میں انسان سوالات کے جوابات اور مسائل کے حل کے لیے مسلسل اے آئی پر انحصار کرنے لگے اور خود سوچنے کی مشق کم کر دے۔سیگل کے مطابق اے آئی کمپنیوں کے پاس بچوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرنے کے راستے بھی موجود ہیں۔ انہوں نے اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے لیے زیادہ موثر عمر کی تصدیق کے نظام کی تجویز دی، تاکہ کم عمر بچے ایسی اے آئی خدمات تک رسائی حاصل نہ کر سکیں جو ان کے لیے موزوں نہیں۔انہوں نے گوگل سے بھی کہا کہ اس کے سرچ انجن میں اے آئی اوور ویوز اور اے آئی موڈ کو بند کرنے کا واضح اختیار صارفین کو دیا جائے۔ ان کے مطابق گوگل پہلے ہی جنسی نوعیت کے واضح مواد کو فلٹر کرنے کے لیے صارفین کو ایک کنٹرول فراہم کرتا ہے، اس لیے اے آئی خصوصیات کے لیے بھی ایسا اختیار دیا جا سکتا ہے۔گوگل نے سیگل کے خدشات کے جواب میں کہا کہ والدین کے پاس اپنے بچوں کی سرچ انجن تک رسائی مکمل طور پر بند کرنے کے لیے کنٹرولز موجود ہیں۔ کمپنی کے ترجمان کے مطابق گوگل کی اے آئی سرچ خصوصیات بچوں اور نوجوانوں کو سیکھنے، معلومات تلاش کرنے اور دنیا کو سمجھنے میں مدد فراہم کرنے کے لیے مفید ہیں۔اوپن اے آئی کے ترجمان نے بتایا کہ کمپنی کم عمر صارفین کی شناخت کے لیے خود بتائی گئی عمر کے علاوہ اکانٹ اور صارف کے رویے سے متعلق مختلف معلومات بھی استعمال کرتی ہے۔ ترجمان کے مطابق عمر کی تصدیق کا کوئی ایک طریقہ مکمل طور پر موثر نہیں، اسی لیے کمپنی ان نظاموں کو مسلسل بہتر بنا رہی ہے اور حفاظتی پابندیوں کو نظرانداز کرنے کی کوششوں کے خلاف بھی کام کر رہی ہے۔اینتھروپک نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔سیگل نے تجویز دی ہے کہ بچوں کے تحفظ کے لیے اے آئی ٹولز کی آزادانہ جانچ کا ایک ایسا نظام قائم کیا جائے جو گاڑیوں کے حفاظتی ٹیسٹ سے ملتا جلتا ہو۔ ان کے مطابق جس طرح گاڑیوں کو حادثے کی صورت میں مسافروں کو لاحق خطرات کے حوالے سے جانچا جاتا ہے، اسی طرح اے آئی ٹولز کے ممکنہ خطرات بھی باقاعدہ طور پر پرکھے جا سکتے ہیں۔سیگل نے 2004 سے 2019 تک گوگل میں کام کیا۔ گوگل چھوڑنے کے بعد انہوں نے ٹرسٹ لیب نامی کمپنی کی مشترکہ بنیاد رکھی، جو آن لائن حفاظتی خطرات کی نشاندہی کے لیے ٹیکنالوجی تیار کرتی ہے۔ وہ رواں ماہ اس کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کے عہدے سے الگ ہوئے تاکہ بچوں کے لیے اے آئی سیفٹی کے نئے منصوبے کی قیادت کر سکیں۔اے آئی چیٹ بوٹس اور دیگر مصنوعی ذہانت کی خدمات کا استعمال بچوں اور نوجوانوں میں بھی بڑھ رہا ہے۔ اس صورتِحال میں ماہرین کے سامنے بنیادی چیلنج یہ ہے کہ اے آئی کے تعلیمی اور معلوماتی فوائد برقرار رکھتے ہوئے کم عمر صارفین کو نامناسب مواد، نقصان دہ گفتگو اور ٹیکنالوجی پر ضرورت سے زیادہ انحصار جیسے ممکنہ خطرات سے کیسے محفوظ رکھا جائے۔




