فیصل آباد (آن لائن ) ستھرا پنجاب اور بیوٹیفکیشن کے نام پر ناقص میٹریل کا استعمال مبینہ طور پر کروڑوں روپے کی کرپشن ٹھیکیدار سے لیکر تعمیراتی کاموں کی نگرانی کرنے والے افسران نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ صاف کیے بعض افسران کروڑوں روپے ہضم کرکے فیصل آباد ڈویژن سے رفو چکر ہو گئے’ شہریوں کا وزیراعلیٰ’ چیئرمین نیب ڈائریکٹر جنرل انٹی کرپشن سے پنجاب بھر کے اور خصوصی طور پر فیصل آباد ڈویژن کے تمام منصوبوں کی مکمل تحقیقات’ کرپشن میں ملوث ٹھیکیداران اور نگرانی کرنے والے تمام افسران کو شامل تفتیش کرنے اور ملک سے باہر جانے پر پابندی لگانے کا مطالبہ’ وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبہ پنجاب کے مختلف شہروں اور قصوبوں کو صاف ستھرا بنانے اور سڑکوں کو کشادہ کرنے کے لیے اربوں روپے کے فنڈز جاری کیے مگر ان تعمیراتی کاموں کا ٹھیکہ حاصل کرنے والوں نے بیوروکریٹ افسران اور انجینئرنگ برانچ کے افسران کی ملی بھگت کر کے ناقص میٹریل استعمال کیا اور ایک سوچھے سمجھے منصوبے کے تحت گزشتہ دس ماہ سے کاروباری طبقہ کو بھی پریشان کر کے توڑ پھوڑ کے نام پر لاکھوں افراد کو بیروزگاری کر دیا گیا’ فیصل آباد شہر’ جڑانوالہ’ ٹوبہ ٹیک سنگھ’ چک جھمرہ’ گوجرہ اور ڈویژن کے دوسرے شہروں کی بھی یہی حالت کر دی گئی ہے جبکہ خوبصورتی کے نام پر بار بار منصوبوں میں تبدیلی کر کے کروڑوں روپے خرد برد کر لیے گئے اور اس مکروہ دھندے میں مبینہ طور پر بعض افسران جن میں اسسٹنٹ کمشنر اور دیگر منصوبوں کی نگرانی کرنے والے افسران نے لاکھوں کروڑوں روپے کمیشن وصول کر کے اپنے تبادلے دوسرے شہروں میں کرا لیے تاکہ کرپشن منظر عام پر نہ آ سکے چنانچہ وفاقی حکومت اور مختلف اداروں جن میں آئی ایس آئی ‘ ایم آئی’ آئی’ بی’ اینٹی کرپشن کے ایماندار افسران پر مشتمل تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے تاکہ حقائق منظر عام پر آسکیں اور جو افسران اس کرپشن میں ملوث ہیں انہیں سخت سزادی جائے اور ملازمتوں سے برطرف کیا جائے۔ دریں اثنا صوبائی حکومت نے پنجاب بھر کے تمام میونسپل کارپوریشن کا چارج کمشنرز سے لیکر ڈپٹی کمشنرز کو دے دیا گیا ہے تاکہ منصوبوں کی تکمیل کی مکمل ذمہ داری اور ناقص کارکردگی کے وہ جواب دے ہو سکیں۔




