پشاور (بیورو چیف) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہاہے کہ پی ٹی آئی مارچ کی تاریخ پھر تبدیل ہوگی، یہ تاریخ پر تاریخ والا معاملہ ہے۔میڈیا سے گفتگو میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سہیل آفریدی جارہے ہیں یا کوئی اور آرہا ہے، پارٹی ترجمان ہی بتاسکتے ہیں، گزشتہ دو سال میں کئی مرتبہ گورنر راج لگانے کی بات ہوئی، اگر کسی کا استعفیٰ آیا تو اسے منظور کرلوں گا۔فیصل کریم کنڈی نے کہاکہ روزانہ لاشیں اٹھا رہے ہیں، ایسے حالات میں اسلام آباد پر چڑھائی مناسب نہیں، اسلام آباد پر چڑھائی کا نتیجہ صفر ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو مشورہ ہے مارچ ختم کردیں، امن وامان کی صورتحال وفاق اور صوبیدونوں کی ذمہ داری ہے، صوبے کے مفادکیلییسب کا مل کرکام کرنا ضروری ہے، سب مل بیٹھ کر کام کریں گے تو صوبے میں امن قائم ہوجائیگا، امن کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لیکر کام کرنا ہوگا۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ افغانستان دہشت گردوں کی سہولت کاری کررہا ہے، صوبے کے مفادکے لیے وزیراعظم سے ملاقات کرکے پشاور آنے کی دعوت دی، وزیراعظم کو امن وامان سے متعلق کابینہ اجلاس اور اپیکس کمیٹی کااجلاس پشاور میں بلانے کا کہا ہے۔فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ جب 1973 کے آئین میں لکھا ہے گورنر راج لگ سکتاہے تو یہ غیر آئینی تو نہیں، اتنی جمہوری پارٹیاں پہلے گزرچکیں،گورنر راج کے خاتمے سے متعلق ترمیم کیوں نہیں کی، صوبے کو دہشت گردوں کے رحم وکرم پر چھوڑ کر اسلام آباد میں خون خراباکرنا مقصود ہے؟ تمام سیاسی جماعتوں پرمشتمل جرگہ طلب کرکے امن پربات کی جائے، یا دہشت گردوں کے سہولت کار بن جائیں یا ریاست کے ساتھ کھڑے ہوجائیں۔




