واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی مڈ ٹرم الیکشن سے قبل کیے گئے سروے کی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ڈیموکریٹس کو ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکنز پارٹی پر12پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔کوئنی پیاک یونیورسٹی کی نئی سروے رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کی معاشی کارکردگی پر62 فی صد ووٹرز نے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے، خارجہ پالیسی پر بھی62فی صد ووٹرز نے صدر ٹرمپ کی کارکردگی سے اختلاف کیا۔رجسٹر ووٹرز میں سے 51فیصد ڈیموکریٹس اور39ریپبلکنز کے حامی ہیں،صدر ٹرمپ کی مقبولیت مسلسل کم ہو رہی ہے، تاہم صدر ٹرمپ نے انتخابی سروے رپورٹس مسترد کرتے ہوئے معاشی کارکردگی بہترین قرار دے دی ہے۔امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپکوشش کر رہے ہیں کہ وسط مدتی انتخابات کو اپنی صدارت پر ایک ریفرنڈم بنا دیا جائے، لیکن اس کا الٹا ہی اثر رہا ہے، کیوں کہ این پی آر، پی بی ایس نیوز، اور مارسٹ جیسے اداروں کے تازہ ترین سرویز میں ڈیموکریٹک کانگریسی امیدوار ریپبلکن امیدواروں پر نمایاں برتری حاصل کیے نظر آ رہے ہیں۔رجسٹرڈ ووٹرز میں سے نصف سے زیادہ یعنی 53 فی صد کا کہنا ہے کہ کہ اگر انتخابات آج ہوں تو وہ ڈیموکریٹک امیدواروں کو ووٹ دیں گے، جب کہ 41 فی صد ریپبلکنز کو ترجیح دیتے ہیں، آزاد ووٹرز، جو اکثر سخت مقابلے والے انتخابات کا فیصلہ کرتے ہیں، 25 فی صد پوائنٹس کے فرق سے ڈیموکریٹس کے حق میں ہیں۔مارِسٹ انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپینین کے ڈائریکٹر لی میرِنکوف نے کہا ڈیموکریٹس اس وقت بہت اچھی پوزیشن میں ہیں، انھوں نے مزید کہا ووٹرز میں بہت زیادہ بے چینی ہے اور بہت سے لوگ حالات کو تبدیل کرنے کے حق میں جذبات رکھتے ہیں۔مجموعی طور پر، 45 فی صد رجسٹرڈ ووٹرز اور 54 فی صد آزاد ووٹرز کہتے ہیں کہ ان کا ووٹ زیادہ تر ٹرمپ کی مخالفت کے اظہار کے لیے ہوگا، 10 میں سے 8 ڈیموکریٹس ٹرمپ کے خلاف ووٹ دینے کے لیے متحرک ہیں، صرف 24 فیصد ووٹرز اور 12 فیصد آزاد ووٹرز کا کہنا ہے کہ وہ صدر کی حمایت ظاہر کرنے کے لیے ووٹ دے رہے ہیں۔




