سندھ طاس معاہدہ پر مکمل عملدرآمد ضروری ہے (اداریہ)

پاکستان نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے کہ وہ خطے میں امن استحکام اور مذاکرات کا خواہاں ہے، تاہم اپنے بنیادی قومی مفادات اور آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطاء اﷲ تارڑ نے واضح کیا کہ پاکستان امن پر یقین رکھتا ہے لیکن بھارت کو پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب سندھ طاس معاہدے کی حیثیت اور اس پر پیدا ہونے والی صورتحال ایک اہم علاقائی اور بین الاقوامی معاملہ بن چکی ہے۔ سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کا ایک اہم بین الاقوامی معاہدہ ہے۔ جس نے کئی دہائیوں تک دونوں ممالک کے درمیان آبی معاملات کو ایک متعین قانونی فریم ورک کے تحت رکھنے میں کردار ادا کیا، خطے میں جنگیں’ کشیدگی’ سیاسی اختلافات اور سفارتی اتار چڑھائو آتے رہے، لیکن آبی تعاون کا یہ نظام بڑی حد تک برقرار رہا، یہی وجہ ہے کہ پانی کا معاملہ محض ایک قدرتی وسیلے کا مسئلہ نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگی’ زراعت’ معیشت اور مستقبل سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔ پاکستان کی معیشت میں دریائی نظام بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ملک کی زراعت’ آبپاشی’ خوراک کی پیداوار’ دیہی روزگار اور صنعتی سرگرمیوں کا ایک بڑا حصہ پانی کی دستیابی سے وابستہ ہے۔ اس لیے پانی کے بہائو میں غیر یقینی یا طویل مدتی رکاوٹ نہ صرف کسانوں کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ اس کے اثرات خوراک کی قیمتوں’ روزگار’ صنعت اور مجموعی معاشی سرگرمیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان آبی مسئلے کو اپنے بنیادی قومی مفادات میں شمار کرتا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطاء اﷲ تارڑ نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل’ منسوخ یا تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ پانی پاکستان کے 24کرور عوام کا بنیادی اور مسلمہ حق ہے، بھارت کو پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، پاکستان بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے قومی مفادات کا دفاع جاری رکھے گا، سندھ طاس معاہدے کی حیثیت میں یکطرفہ تبدیلی کے وسیع تر اثرات دنیا بھر میں سرحد پار پانیوں کے انتظام پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ عالمی برادری کو اس معاملے کی حساسیت کا ادراک کرنا ہو گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سندھ طاس کے وجود میں آنے اور دو فریقوں کے درمیان دستخط کے وقت شاید یہ تصور بھی نہیں کیا گیا ہو گا کہ چند دہائیوں بعد ایسا وقت بھی آئے گا جب بھارت قانونی تقاضوں سے لاعلم اور اخلاقی اقدار سے عاری ہو جائے گا۔ سندھ طاس معاہدہ شرائط وضوابط کا تعین کرنے والا قانونی فریم ورک ہے اور دستخط کے بعد دونوں فریقین پر قانونی طور پر قابل نفاذ اور لازم ہے۔ جب معاہدے میں یہ شرط بھی موجود ہو کہ اسے یکطرفہ طور پر منسوخ’ ختم یا تبدیل نہیں کیا جا سکتا تو اس سے پاکستان کے مؤقف کو قانونی تقویت اور جواز ملتا ہے۔ معاہدے کو نہ تو یکطرفہ طور پر تبدیل’ ختم یا منسوخ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے معطل کیا جا سکتا ہے۔ کسی تنازع کی صورت میں بھی دونوں فریق معاہدے کی شرائط وضوابط پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگست 2025ء میں عالمی ثالثی عدالت نے پاکستان کے اس موقف کو قانونی جواز اور تقویت دی کہ معاہدے کی حیثیت کویکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی جا سکتی۔ حکومت پاکستان نے اس معاملے کو سفارتی انداز میں آگے بڑھایا، عالمی برادری سے رابطہ کر کے اپنا قانونی اور سفارتی موقف پیش کیا اور ایک ایسی ریاست کے طور پر اپنا مقدمہ پیش کیا جو دوسروں کے حقوق کا احترام کرتی ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کا موقف بالکل واضح ہے۔ بھارت اپنے غیر قانونی اقدامات کے دفاع کے لیے مبینہ سرحد پار دہشتگردی کو جواز کے طور پر پیش کرتا ہے، تاہم پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانیاں دی ہیں جبکہ گزشتہ کئی دہائیوں کے درمیان پاکستان کو 150 ارب ڈالر سے زائد کے معاشی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں جب کوئی پاکستانی اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتا ہے تو وہ صرف پاکستان کے تحفظ کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کو زیادہ محفوظ بنانے کے لیے ہوتی ہے۔ پاکستان دہشت گردی کی جنگ میں صف اول کا کردار ادا کر رہا ہے۔ لہٰذا پاکستان کا یہ واضح پیغام کہ ہم امن چاہتے ہیں لیکن پانی کو بطور ہتھیار استعمال نہیں کرنے دیں گے ایک ایسی پالیسی کا اظہار ہے جس میں امن کی خواہش اور قومی حقوق کا دفاع دونوں شامل ہیں۔ لہٰذا بھارتی حکمرانوں کو بھی چاہیے کہ وہ سندھ طاس معاہدے پر مکمل عملدرآمد کریں امید ہے کہ عالمی برادری بھی اس سلسلے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں