ملک میں سیاسی کشیدگی اور باہمی اختلافات کے خاتمے کے لیے حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کا عمل ایک مرتبہ پھر اہم مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی نشست بھی مکمل ہو چکی ہے۔ شنید ہے کہ بات چیت میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ موجودہ سیاسی حالات میں مذاکرات کا دوبارہ آغاز اور فریقین کا ایک دوسرے کے موقف کو سننا بلاشبہ ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔ پاکستان اس وقت کئی اہم مسائل سے دوچار ہے۔ معیشت کی بحالی’ سرمایہ کاری میں اضافہ’ روزگار کے مواقع پیدا کرنا’ مہنگائی پر قابو پانا’ توانائی کے مسائل حل کرنا اور ملکی اداروں کو مؤثر بنانا ایسے معاملات ہیں جن کے لیے سیاسی استحکام بنیادی ضرورت ہے۔ مسلسل سیاسی محاذ آرائی سے نہ صرف حکومت اور اپوزیشن کے درمیان فاصلے بڑھتے ہیں بلکہ اس کے اثرات ملکی معیشت کاروباری سرگرمیوں اور عام آدمی کی زندگی پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کی میز پر واپسی کو ایک مثبت قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ سیاسی مسائل کا حل سیاسی ایوانوں میں ہی نکلنا چاہیے۔ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ جب بھی سیاستدان اپنے مسائل پارلیمنٹ اور مذاکراتی میز کے بجائے سڑکوں پر لائے یا غیر آئینی طریقوں کے ذریعے حل کرنے کی کوشش میں لگ گئے تو سب سے زیادہ ٹھیس جمہوریت اور خود سیاسی نظام کو پہنچی’ اگر موجودہ تعطل کا حل پُرامن اور جمہوری طریقے سے نکالا گیا تو نہ صرف سیاسی ہیجان کا خاتمہ ہو گا بلکہ ملک کا جمہوری اور پارلیمانی نظام بھی مزید مضبوط اور معتبر ہو کر ابھرے گا۔ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور مکمل ہو گیا سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پیشرفت میں اہم کردار ادا کیا۔ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے مذاکرات کے دوسرے دور کیلئے جاتے ہوئے کہا کہ یہ مذاکرات ملک وقوم اور جمہوریت کیلئے بہت ضروری ہیں پی ٹی آئی بڑی سیاسی جماعت ہے ہم چاہتے ہیں کہ چیزیں بہتر ہوں۔ معاملات کو آگے بڑھانے کیلئے بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ ہوا ہے۔ پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے معاملے پر وفاقی حکومت کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کریگی جبکہ حکومت 3 ایم پی او کے تحت گرفتار رہنمائوں اور کارکنان’ بانی چیئرمین کی بہنوں کی رہائی پر بھی اتفاق ہوا۔ مستقبل میں احتجاجی سیاست سے دوری اختیار کر کے صوبے میں گورننس پر توجہ دی جائیگی اور عوام کی فلاح کیلئے کام کیا جائیگا۔ مذاکرات میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا معاملہ قانون کے مطابق دیکھا جائیگا۔ محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن رہنمائوں بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر سے رابطہ کیا اور واضح کیا کہ پہلے بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات ہو گی پھر کوئی فیصلہ ہو گا۔ حکومتی وفد کا موقف تھا کہ ہم کھلے دل سے آئے ہیں اور مکمل بااختیار ہیں۔ حکومت چاہتی ہے کہ لانگ مارچ غیر مشروط طور پر ختم کریں تاکہ مذاکرات آگے بڑھیں۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ سیاسی اختلافات ہمیشہ موجود رہے ہیں لیکن ملک نے اسی وقت ترقی کی جب قومی قیادت نے بڑے مسائل پر اتفاق رائے پیدا کیا۔ آج ضرورت اسی سیاسی تدبر برداشت اور مفاہمت کی ہے۔ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات میں ہونے والی مثبت پیش رفت کو ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ دونوں فریقوں کو چھوٹے سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دینا ہو گی۔ امید کی جانی چاہیے کہ مذاکرات کا اگلا مرحلہ بھی مثبت سمت میں آگے بڑھے گا اور فریقین کسی قابل عمل حل تک پہنچنے میں کامیاب ہونگے۔ سیاسی استحکام ہی معاشی استحکام کی بنیاد ہے اور معاشی استحکام ہی عوام کو بہتر مستقبل کی ضمانت فراہم کر سکتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن اختلافات کو مذاکرات کی میز پر حل کریں۔ پارلیمانی جمہوریت کو مضبوط بنائیں اور ملک کو سیاسی کشیدگی کے بجائے ترقی’ خوشحالی اور استحکام کی راہ پر گامزن کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اسی میں ہی ملک وقوم کی بہتری ہے۔




