جیلوں میں گنجائش سے160فیصد زائد قیدی

اسلام آباد (بیوروچیف) انسانی حقوق کمیشن کی جانب سے سال 2026کی جاری کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک بھر کی جیلوں میں گنجائش سے 160فیصد سے زائد قیدی موجود ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان بھر کی جیلوں میں محض گذشتہ سات برس کے دوران50فیصد قیدیوں کا اضافہ ہوا ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن کیسالانہ رپورٹ کے مطابق ملک بھر کی جیلوں میں اس وقت ایک لاکھ 10 ہزار 515 قیدی موجود ہیں، اور اِن کی تعداد 2019 کے مقابلے میں 50.1 فیصد بڑھ چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جیلوں میں 68 ہزار 832 قیدی رکھنے کی گنجائش ہے، تاہم جیلیں اپنی گنجائش سے 160.6 فیصد زائد قیدیوں کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے 193 فیصد جبکہ پنجاب کی جیلوں میں 176.5 فیصد زیادہ قیدی موجود ہیں۔ جیلوں میں 82 ہزار 988 قیدیوں کے مقدمات زیرِ سماعت ہیں جو مجموعی قیدیوں کا 75 فیصد سے زائد بنتے ہیں۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جن قیدیوں کے مقدمات عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں ان کی تعداد جیلوں کی مجموعی گنجائش سے بھی 14 ہزار 156 قیدی زیادہ ہے۔ضمانت کے حصول میں مشکلات، مقدمات میں تاخیر اور عدالتی کارروائی کی سست روی قیدیوں کے زیرِ سماعت مقدمات میں اضافے کی اہم وجوہات ہیں۔ انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قانونی پیچیدگیاں اور خامیاں، منشیات کے مقدمات میں ملوث ملزمان گنجائش سے زائد قیدیوں کی ایک بڑی وجہ ہیںاس رپورٹ کے مطابق منشیات سے متعلق سخت قوانین بھی پاکستان کی جیلوں میں قیدیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا اہم سبب بن گئے ہیں۔ انسدادِ منشیات ایکٹ کے تحت 28 ہزار سے زائد افراد جیلوں میں قید ہیں، جبکہ منشیات کے مقدمات میں قید افراد کی تعداد 2023 کے بعد سے 43.4 فیصد بڑھ چکی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جیلوں میں قیدیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا مسئلہ صرف گنجائش کی کمی تک محدود نہیں، بلکہ اس کا گہرا تعلق نظامِ انصاف، قوانین، گرفتاریوں، ضمانت کے طریقہ کار اور مقدمات نمٹانے کے عمل سے بھی ہے۔رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی ہونے کی بڑی وجوہات میں ضمانت کے حصول کا پیچیدہ قانونی طریقہ کار، ریمانڈ اور مسلسل حراست شامل ہیں۔ اسی رپورٹ میں جیلوں کی حالت میں بہتری اور قیدیوں کی تعداد میں کمی کے حوالے سے حکومت کے لیے سفارشات بھی مرتب کی گئی ہیں۔ پیرول کے قوانین آئین سے متصادم اور خامیوں پر مبنی ہیںرپورٹ میں حکومت سے سفارش کی گئی ہے کہ تمام صوبائی اور وفاقی حکومتیں ملزمان کو پیرول اور پروبیشن کا حق فراہم کرنے کے لیے موثر قانون سازی کریں۔ انسانی حقوق کمیشن نے تمام حکومتوں سے سفارش کی ہے کہ قیدیوں کی تربیت اور ذہنی بہتری کے لیے بحالی مراکز بھی قائم کیے جائیں۔حکومتوں سے قیدیوں کو فوری پیرول اور پروبیشن کی فراہمی کے لیے جامع اور موثر فریم ورک بنانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ انسانی حقوق کمیشن نے 21 صفحات پر مبنی اس رپورٹ میں ضمانت کے مروجہ قانونی طریقہ کار کو آئین پاکستان کے منافی قرار دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں